26-0621 مسیح اپنے خود کے کلام میں آشکارا ہے

اے ملکہ،

اور آج دلہن کو مسیح کے بدن میں سے نکالا گیا ہے، جو بالکل اُسی طرح عمل کررہی ہے اور ٹھیک اُسی طریقے سے رہ رہی ہے جیسے اُس نے کہا تھا کہ وہ اس زمانہ میں کریگی، دلہن، جو کہ ملکہ ہے: پس یہ بادشاہ اور ملکہ ہیں۔

جب یسُوع وہ مکمل کلام بن گیا، تو پھر ہم تب اُسکا حصہ تھے۔ پس کوئی بھی ابلیس نہیں ہے، اور نہ ہی کوئی ایسی طاقت، جو کبھی ہم سے اس چیز کو چھین سکے۔ یہ رُوح کی ٹائی پوسٹ ہے۔

ہر ایک پیغام کو سننے کے وسیلہ دلہن کے درمیان کیا ہی بیداری واقعہ ہورہی ہے۔ اسکا اظہار کرنا فانی لفظوں سے پرے ہے۔ شک کا کوئی سایہ بھی نہیں ہے، خُدا نے ہمیں چُنا ہے اور ہمیں اُسکے کلام کا آج کے زمانہ میں حقیقی مکاشفہ دیا ہے۔ لہذا، ہم جانتے ہیں کہ ہم کون ہیں، ہم اُسکی ملکہ ہیں۔

خُدا کی آواز ٹیپس کے وسیلہ دلہن سے بات کرکے اُسے کامل کررہی ہے۔ پس کوئی اور منسڑی نہیں ہے، کوئی اور آواز نہیں ہے؛ کوئی بھی ایسی چیز نہیں ہے جو دلہن کو کامل کرسکے سوائے خود خُدا کے جو کہ انسانی ہونٹون کے وسیلہ دلہن سے براہ راست بات کررہا ہے۔ دوسرے شاید کسی متبادل کو چاہتے ہوں، لیکن اُسکی دلہن اُسکی آواز کے علاوہ کسی اور چیز کو نہیں چاہے گی، یہ جو اُسکی دلہن کے لیے لیو لیٹر ہے؛ کیونکہ اُسکی بھیڑیں صرف اُسی کی آواز سننا چاہتی ہیں۔

لوگ کہتے ہیں کہ ہم نبی پر بہت زیادہ زور دیتے ہیں۔ یہ بہت عجیب بات ہے کہ لوگ یہ تسلیم نہیں کرتے کہ عظیم آسمانی باپ نے خود اپنے فرشتے کا اتنا خیال رکھا کہ اُس نے اپنے بارے میں ہر تفصیل کو اتنی اہمیت دی۔ اُس نے جسطرح کا لباس پہنا، جس طرح سے اُس نے کام کیے، اُسکا کردار، اُسکی عدات۔

یہاں تک کہ اُس نے اسے اُسی قسم کے کپڑے پہنائے جو وہ پہنتا تھا۔ اُسکی فطرت، اُسکی آوزو، سب کچھ جس طرح سے اسے ہونا تھا، پس خود خُدا نے ہمارے لیے ٹھیک منتخب کیا…پھر کہتے ہیں کہ ہم نبی کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

ہمارے لیے، ٹیپس پر جو آواز ہے وہ کسی آدمی کی نہیں ہے، نہ ہی وہ کسی آدمی نے فرمائی ہیں، اور نہ ہی وہ کسی آدمی کے وسیلہ لائی گئی ہیں، اور نہ ہی ان باتوں کو کوئی آدمی آشکارا کرسکتا ہے۔ یہ خُدا کا کلام ہے جو خود خُدا کی طرف سے آشکارا کیا گیا ہے، وہ جو خود اپنا ترجمان ہے، یہ مسیح ہے جو خود کو اپنے کلام میں آشکارا کررہا ہے۔

کچھ سن سکتے ہیں، لیکن پوری طرح پہچانتے نہیں ہیں۔ آپ اُنہیں بتا سکتے ہیں، دکھا سکتے ہیں، لیکن وہ پھر بھی اسے دیکھ نہیں سکتے۔ ہم اُن سے پیار کرتے ہیں، اُنکے لیے دُعا کرتے ہیں، لیکن خُدا نے جو ہم پر آشکارا کیا ہے وہ اُسکی کاملیت ہے۔

یہاں آج مسیح کی دلہن کے درمیان عظیم تقسیم کے لیے لٹمس ٹیسٹ ہے جو کہتا ہے کہ اُنکے پاس اس عظیم آخری وقت کے پیغام کا حقیقی مکاشفہ ہے۔

لٹمس ٹیسٹ کے معنی، ایک واحد، فیصلہ کن عنصر، سوال، یا واقعہ جو فوری طور پر کسی چیز (یا کسی) کی اصل نوعیت، معیار، یا پوزیشن کو ظاہر کرتا ہے۔

مجھے یہ پہلے پھر سے کہنے دیں، میں حقیقی خُدا کی بلائی گئی منسڑی پر ایمان رکھتا ہوں۔ ہر ایک آفس کی ضرورت، اور جگہ ہے۔ کلام یہ ضرور فرماتا ہے کہ آدمیوں کی منسڑی مقدسین کو کامل کرنے کے لیے ہے، لیکن وہ یہ نہیں فرماتی کہ ہر ایک 5 FOLD MINISTRY مقدسین کو کامل کریگی۔ بردار برینہم بالکل سادگی سے ہمیں بتاتے ہیں کہ منسڑی ہر ایک زمانہ میں گمراہ ہوجاتی ہے، تو وہ کیسے دلہن کو کامل کرسکتے ہیں؟

پس بہت، بہت زیادہ تعداد میں مناد، اُستاد، رسول اور نبیوں نے منادی کی ہے کہ وہ اس اینڈ ٹائم مسیج پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ کہ بردار برینہم مکاشفہ10:7 کی آواز تھا، لیکن جو اب یہ کہتے ہیں کہ وہ جھوٹا تھا، وہ دھوکے باز تھا، اور ہم فرقہ ہیں۔

یہ بہت ہی معزز مناد تھے جنکی بڑی جماعتیں تھیں جنہوں نے دُنیا کا سفر کیا اور خدمت کی۔ انہیں 5 FOLD MINISTRY میں عظیم رہنما سمجا جاتا تھا، یہ کنونشنوں اور امریکہ کے گرجا گھروں میں منادی کرتے تھے۔ لوگوں کی نظر میں انکی ایک عظیم منسڑی تھی، اور وہ انکی پیروی کرتے تھے اور انہیں خُدا کے عظیم خُدام مانتے تھے۔

پھر آج ایسے مناد ہیں جنہیں دُنیا بھر میں حقیقی 5 Fold خُدام مانا جاتا ہے جو یہ دعوٰی کرتے ہیں کہ وہ اس میسج پر ایمان رکھتے ہیں اور وہ اسکو قوٹ کرتے ہیں اور اسکی منادی کرتے ہیں، لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں یہ میسج اُنکا مطلق نہیں ہے۔ one-man میسج کے دن گذر چکے ہیں۔ پس 5-fold منسڑی ہی اب دلہن کو کامل کریگی، اور چرچز میں ٹیپس چلانا بالکل غلط ہے، وہ پس کچھ بیانات کو قوٹ کرتے ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ آخری وقت میں جھوٹے مسح شدہ لوگ ہونگے؛ نبی نے ہمیں خبردار کیا کہ ہم اُن پر نظر رکھیں۔ اُنکی منسڑی مسح شدہ ہوگی۔ اُنکے پاس رُوح القُدس بھی ہوگا، حالانکہ وہ اس زمانے کے پیغام کو بھی قوٹ کرینگے۔ یہ اتنا قریب تر ہوگا کہ اگر ممکن ہو تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کرلیں۔

پس یہ تنظیمیں نہیں ہیں۔ یہ برگزیدوں کو گمراہ نہیں کرسکتے۔ لہذا، یہ کوئی ایسا ہی کرسکتا ہے جو بہت قریب تر ہے۔ اسکا یہ مطلب نہیں کہ ہر ایک مناد گمراہ ہوچکا ہے، ہرگز نہیں۔ پس خُدا کے بہت عظیم خُدام ہیں جو سچائی کی منادی کرتے ہیں اور اسے سیکھاتے ہیں، لیکن کچھ ایسا ہے جو ہر ایک بیلور کو پہچاننا اور خود سے پوچھنا چاہیے:

کیا وہ مناد جسکی آپ پیروی کررہے ہیں وہ غلطی کرسکتا ہے؟
کیا آپ ہر اُس بات پر آمین کہہ سکتے ہیں جو وہ بولتا ہے؟
کیا آپ ایمان رکھتے ہیں کہ ہر ایک بات جو وہ سیکھاتا ہے وہ خُداوند یوں فرماتا ہے؟
کیا اُسکی آواز سب سے ضروری آواز جو آپکو سننی چاہیے؟
کیا وہ غلط چیز کی منادی کرسکتا ہے؟
کیا وہ اس میسج کی منادی کرنے کے تیس سال بعد بھی غلط ہوسکتا ہے؟ کیا وہ ٹل سکتا ہے؟
کیا وہ آپکو غلط چیزیں بتا سکتا ہے؟
کیا وہ دھوکہ کھا سکتا ہے؟

اب خود سے یہ سوال شناخت شدہ خُدا کی آواز کے متعلق پوچھیں جو کہ آپ ٹیپس پر سنتے ہیں۔

کیا ٹیپس پر جو پیغام ہے وہ غلطیاں کرسکتا ہے: نہیں
کیا آپ ایمان رکھ کر ہر اُس بات پر آمین بول سکتے ہیں جو وہ کہتا ہے؟ جی ہاں
کیا یہ ٹل سکتی ہے؟ نہیں
کیا یہ غلط چیزوں کی منادی کرسکتی ہے؟ نہیں
کیا یہ آپکو غلط چیز بتاسکتی ہے؟ نہیں
کیا آپ ہر سننے والی بات پر اپنی ابدی منزل کو داؤ پر لگا سکتے ہیں…جی ہاں!!!
کیا یہ خُدا کی آواز ہے: جی ہاں

میں یہ باتیں کیوں کہہ رہا ہوں؟ تاکہ یہ دکھا سکوں کہ تمام آدمی، غلطی کرتے ہیں، اور کرسکتے ہیں، لیکن ٹیپس پر جو خُدا کی آواز ہے وہ کبھی غلطی نہیں کرسکتی۔ پس یہی وجہ ہے کہ یہ سب سے ضروری آواز جو آپکو سننی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ منسڑی کو چرچز میں ٹیپس کو چلانا چاہیے۔ یہ خُدا کا کامل مہیاہ کردہ راستہ ہے جو اُس نے اپنی دلہن کے لیے بنایا ہے۔

یقیناً، میں یہ ایمان رکھتا ہوں کہ آپ باقیوں کو سن سکتے ہیں، لیکن واحد آواز جو آپکو سننی چاہیے اور ہر ایک بات جس پر آمین کہنا چاہیے وہ ٹیپس پر ہے۔ یہی وہ واحد آواز ہے جسکی ہر ایک بات پر ہم آمین کہہ سکتے ہیں۔

یہ خُدا کا حکم ہے، آپکو ہر ایک بات پر ایمان رکھنا چاہیے، اور وہ کلام جو آپ ٹیپس پر سنتے ہیں یہ وہ واحد کلام ہے جسکی شناخت آگ کے ستون کے وسیلہ کی گئی کہ یہ سچائی ہے۔ خُدا نے کہا ولیم میرئین برینہم اُسکے کلام کا الہٰی ترجمان ہے، کیونکہ یہ اسکا کلام نہیں ہے، بلکہ یہ خُدا کا کلام ہے۔

ایک بھی نقطے اور شوشے کو نہ بدلو۔ کوئی آدمی اتنا کامل نہیں ہے؛ صرف خُدا کی آواز ہی اتنی کامل ہے۔ حتیٰ کہ جب ہمیں بھی سمجھ نہیں لگتی جو ہم سنتے ہیں، تو ہمیں صرف ایمان رکھنا ہوتا ہے کہ یہ اُسکی دلہن کے لیے خُدا کی شناخت شدہ آواز ہے۔

حقیقی طور پر، رُوحُ القُدس خُدا کے خُدام کی رہنمائی کررہا ہے۔ یقیناً، رُوحُ القُدس نے اُنہیں پاسٹرز اور مناد اور اُستاد ہونے کے لیے بلایا ہے؛ یہ سچائی ہے، لیکن وہ کامل نہیں ہیں۔ لیکن خُدا نے راستہ بنایا ہے کہ آپ کامل کلام کو سن سکتے ہیں ہر بار جب آپ اکھٹے ہوتے ہیں۔

لوگ، اور حتیٰ کہ منسڑی بھی، آج کسی متبادل کو چاہتی ہے۔ کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ کوئی ایک مناد کے ساتھ وہی کرے جو وہ بردار برینہم کے ساتھ کرتے ہیں؟… ”میں تمہیں تیس منٹ دونگا اور تمہیں رُک جانا ہے، میرے پاس پیغام ہے جو مجھے لانا ہے۔

تم کبھی بھی ٹیپس کو سن سکتے ہو۔ میں جانتا ہوں کہ جماعت وہ سننا چاہتی ہے جو کہ آج حال میں چل رہا ہے۔“ بہت سے تو ٹیپ کا کچھ حصہ بھی نہیں چلائیں گے، اور کہتے ہیں کہ چرچز میں ٹیپس کو چلانا غلط ہے۔

کیا اُنکے ٹھیک ذہن میں کوئی بھی ایسے مناد کا تصور کرسکتا ہے جو اپنے چرچ میں خُدا کی آواز نہ چلانے کے لیے کوئی بہانہ، کوئی بھی بہانا بنائے کیونکہ وہ یقین رکھتا ہے کہ اُسے منادی کرنی ہے؟ وہ یہ کہتے ہیں، لیکن وہ یہ ایمان نہیں رکھتے کہ یہ خُدا کی آواز ہے، ورنہ وہ ٹیپس کو چلانے کا کبھی کوئی بہانا بنائے ہی نہ۔

کیسے کوئی ایک یہ دعوٰی کرسکتا ہے کہ وہ ایمان رکھتا ہے کہ یہ خُدا کی آواز ہے اور وہ اسے چرچ میں چلانا نہیں چاہتا؟ کیسے وہ لوگ یہ دعوٰی کرتے ہیں کہ وہ ایمان رکھتے ہیں کہ یہ خُدا کی آواز بول رہی ہے اور وہ اپنے پاسٹرز سے ڈیمانڈ نہیں کرتے ہیں کہ ٹیپس کو اُنکے چرچز میں چلایا جائے؟ ایسا اسی لیے کیونکہ وہ ایک ہی رُوح میں نہیں ہیں۔

نیکدیمس کی طرح مت بنیں اور کہیں، ”میں دیکھتا ہوں اور ایمان رکھتا ہوں۔ یہ ابن آدم ہے جو خود کو انسانی جسم میں ظاہر کررہا ہے۔ یہ خُداوند یوں فرماتا ہے۔ یہ ایک کامل میسج ہے۔ ان ٹیپس پر خُدا کی آواز ہے، لیکن میں اپنی منسٹری کو کم نہیں کرسکتا اور یہ نہیں کہہ سکتا ہے یہ میرے چرچ کے لیے یہ سب سے ضروری آواز ہے جو اسے سننی چاہیے۔“

بھائیوں اور بہنوں، آپ شاید پوری طرح اس بات پر میرے ساتھ متفق نہ ہوں۔ میں کہتا بھی نہیں ہوں کہ آپ ہوں۔ واحد چیز، آپ ذرہ اسکے متعلق سوچیں۔ آپ جو کچھ مجھ سے کہیں گے، میں اسکے متعلق سوچوں گا۔ اگر مناد اپنے چرچ کو کہتے ہیں کہ وہ ٹیپس کو چرچز میں چلانے پر ایمان نہیں رکھتے، یہ میرے بھائی، ٹھیک ہے۔ آپ اُنہیں وہی کچھ کھلائیں جو آپ چاہتے ہیں۔

میں اپنی پوری کوشش کررہا ہوں کہ کلام کے ساتھ ٹھیک ٹھہرا رہوں، کیونکہ بھیڑ بھیڑ کے کھانے کے سوا اور کچھ نہیں چاہتی اور ہم ایمان رکھتے ہیں کہ ٹیپس پر جو آواز ہے وہی ہمارا بھیڑ والا کھانا ہے۔ اسی سے ہم جیتے ہیں: ہر ایک بات جو کہ نکلتی ہے… صرف اب یا تب کلام نہیں؛ لیکن ہر ایک بات جو خُدا کے منہ سے نکلتی ہے اور ٹیپس پر فرمائی گئی ہے: پس اسی کے وسیلہ ہم جیتے ہیں۔

خُدا مجھے معاف کرے اور آپ بھی مجھے معاف کریں اگر آپکو برا لگا ہے یا کچھ غلط کہا ہے۔ پس یہی وہ ہے جس پر ہم ایمان رکھتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ یہ سچائی ہے جسکے وسیلہ ہم جیتے ہیں۔ خُدا نے ہمیں اُسکی آواز سننے کا کامل راستہ دیا ہے اور ہم اس سے پیار کرتے ہیں۔

ہمیشہ کی طرح، میں ہر ایک کو دعوت دیتا ہوں جو ہمارے ساتھ جُڑنا چاہتے ہیں کہ آئیں اور ایک ہی وقت پر اُس آواز کو سنیں 12:00 جیفرسن ویل ٹائم پر، جہاں ہم بطور ایک یونٹ اکھٹے ہو کر سنیں گے: 65-0822M مسیح اپنے خود کے کلام میں آشکارا ہے۔

بردار جوزف برینہم

پیغام سے پہلے پڑھنے کے لیے حوالہ جات:

خروج 4:10-12
یسعیاہ 53: 1-5
یرمیاہ 1: 4-9
ملاکی 4:5
مقدس لوقا 17:30
مقدس یوحنا 1:1 / 1:14 / 7:1-3 / 14:12 / 15:24 / 16:13
گلتیوں 1:8
دوسرا تیمتھیس 3:16-17
عبرانیوں 1: 1-3 / 4:12. / 13:8
دوسرا پطرس 1:20-21
مکاشفہ 1:1-3 / 10: 1-7 / 22:18-19