26-0712 یسُوع مسیح کا مُکاشفہ

Message: 60-1204M یسُوع مسیح کا مُکاشفہ

PDF

BranhamTabernacle.org

اے نبوتی درجے کے لوگوں،

ہم کس قدر کلام سے پیار کرتے ہیں، جو کہ مکاشفہ ہے! ایک سچے ایماندار کے لیے رُوحُ القُدس کے وسیلہ تمام حقیقی مکاشفہ کی اہمیت پر کبھی بھی زیادہ زور دیا نہیں جاسکتا۔ مکاشفہ دلہن کے لیے زندگی سے بڑھ کر ہے؛ کیونکہ اس چٹان، یعنی کہ مکاشفہ پر، میں اپنی کلیسیا قائم کرونگا، اور خُدا کے فضل اور اُسکے رحم کے وسیلہ، ہم ہی اُسکے سچے مکاشفہ کے وسیلہ اُسکی حقیقی کلیسیا ہے۔

مکاشفہ کی کتاب ہر کسی کے لیے نہیں ہے۔ کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو اسے سمجھ سکے۔ یہ ایک نبوتی کتاب ہے جو صرف، ایک خاص نبوتی درجے لوگوں کے لیے لکھی گئی ہے، اور وہی اسے سمجھ سکتے ہیں: یعنی کے ہم، جو کہ یسُوع مسیح کی دلہن ہیں۔

یہ پوری بائبل میں وہ واحد کتاب ہے جو خود مسیح نے لکھی ہے، لیکن اُس نے اسکی نشاندہی کرنے کے لیے اپنے فرشتہ کو بھیجا جو کہ اُسکا خادم یوحنا تھا۔ پس شاگردوں کو ان ریکارڈ ہوئی سچائیوں کا نہیں پتہ تھا۔ کیونکہ یہ اُن پر پہلے آشکارا ہی نہیں کی گئی تھیں۔ حٰتی کہ یسُوع بھی اس میں اپنے مقام کو نہیں بتاسکتا تھا؛ کیونکہ باپ نے یہ اُس پر آشکارا ہی نہیں کیا تھا۔

لیکن اب، اُسکی موت اور جی اُٹھنے کے بعد، اور اس خاص وقت پر، وہ اُس مقام پر ہے کہ وہ اپنا مکاشفہ یوحنا کے سامنے ظاہر کرسکتا ہے، کہ اُسکا جلال اور حضوری چرچ میں کیا اہمیت رکھے گی اور وہ کیا کریگی۔

حتٰی کہ اب بھی، دو ہزار سالوں بعد، دُنیا غور و فکر میں ہے، تھیولوجنز نے اسکا مطالعہ کیا ہے اور وہ اس پر غور کر رہے ہیں، لیکن کسی کے پاس بھی اسکی حقیقی ترجمانی اور ان بھیدوں کا مکاشفہ آج تک نہیں ہے، جو کہ مکاشفہ کی کتاب میں لکھے ہوئے ہیں، پس یہ اس وقت تک ہی تھا، جب خُدا نے اُسی فرشتہ کو زمین پر واپس بھیجا تا کہ یہ سب کچھ ہم پر آشکارا کرے، ہم جو کہ اُسکی چُنی ہوئی دلہن ہیں۔

اُس اہمیت کو سمجھنا کہ خُدا نے مجھے چُنا، اور اُس نے آپکو چُنا؛ اور پھر اُسکے کلام کا حقیقی مکاشفہ ہونا انسانی وضاحت سے باہر ہیں۔ جبکہ بہت سے ہیں جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اس میسج کی پیروی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ ایمان رکھتے ہیں کہ خُدا نے نبی کو بھیجا ہے، لیکن اُنکے پاس مکمل مکاشفہ نہیں ہے یہ جاننے میں کہ اُسکی آواز کو سب سے ضروری آواز سننے کے لیے بننے کا مرتبہ کیا ہے۔ اُسکی آواز کا اس زمانہ میں مکاشفہ ہونا حقیقی طور پر ایک عظیم قیمت کا بیش قیمت موتی ہے۔

خُدا نے اپنا حقیقی مکاشفہ آشکارا کرنے کے لیے ہمیں چُنا ہے۔ لہذا، ہم اُسکی حقیقی کلیسیا ہیں، اُسکی ناقابل تسخیر فوج جسکے سامنے شیطان کی کوئی طاقت نہیں چل سکتی، اور وہ یقیناً ناکام ہے۔ ہماری زندگیوں میں اُسکے حقیقی مکاشفہ کے ساتھ، عالم ارواح کے دروازے ہم پر غالب نہیں آسکتے، لیکن ہم اُن پر غالب آسکتے ہیں۔ کوئی بھی چیز ہمارے سامنے کھڑے نہیں رہ سکتی۔

پس آج کے زمانے کا حقیقی اور مکمل مکاشفہ یہ پہچاننے میں ہے کہ خُدا کی آواز کی ہمارے زمانہ میں کیا اہمیت ہے۔ اگر چرچ جانا، چرچ سے تعلق رکھنا، قربانیاں گذراننا، دُعائیں کرنا، اور خُدا کی پرستش کرنا ہی خُدا کی مکمل ضرورت ہے، تو پھر خُدا ناانصاف ہوگا کہ قائن کو بالکل وہی کرنے کے لیے مجرم ٹھہرائے جو اُس نے کرنے کو کہا تھا۔

پس ٹیپس پر آواز ہمارے لیے یہ معنی رکھتی ہے:

تمام چیزوں کا مکاشفہ یہاں آخر پر رکھا گیا ہے برکت اُنکے واسطے جو اسکو پڑھتے اور اسکو سنتے ہیں، لعنت اُنکے واسطے جو اس میں کچھ شامل کریں یا کچھ نکالیں۔ یہ مکمل مجموعہ ہے، اوہ، بلکہ کامل ہے۔ اس میں کچھ بھی شامل نہیں کیا جاسکتا۔ اور جب کوئی شخص اس میں سے کچھ نکالنے، یا کچھ شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو خُدا نے فرمایا ہے کہ وہ کتاب حیات میں سے اُسکا حصہ نکال دیگا۔ سمجھے؟ اگر کوئی اس میں کچھ شامل کرتا ہے، تو خُدا کتاب میں سے اُسکا حصہ نکال دیگا۔

جیسا کہ پہلے کبھی نہیں ہوا، خُدا نے ایک کامل راستہ مہیاہ کیا ہے نہ کہ اُسکے کلام میں سے کچھ نکلانے یا بڑھانے کے لیے۔ اُس نے ہمیں یہ موقع بخشا ہے کہ اُسکی آواز کو سن سکیں جبکہ وہ بولتا ہے اور اپنے کلام کو ہم پر آشکارا کرتا ہے۔ بالکل سادگی سے اس سے بڑھ کر اور کچھ نہیں ہوسکتا۔

یہی آج کے لیے حقیقی مکاشفہ ہے۔

میں بہت پُرجوش ہوں اور ایک عظیم توقع کے نیچے ہوں اُس سب کے لیے جو خُداوند نے ہمارے لیے ذخیرہ کیا ہے جبکہ ہم سنتے ہیں، پڑھتے ہیں، اور سات کلیسیائی زمانوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔ خُدا نے لکھا، اور اپنے فرشتے کو بھیجا تاکہ یوحنا پر ظاہر کرسکے، اور پھر اُس نے ہمارے لیے انتظار کیا تاکہ ہم اس لمحہ زمین پر آسکیں تاکہ وہ دوبارہ سے اپنے اُسی فرشتہ کو بھیج کر ہم پر یہ آشکارا کرے!

پس دُنیا کی تاریخ میں اس سے بڑھ کر کوئی بھی جلالی دن نہیں آیا جو کہ اب ہے۔ انسان کو اس سے کبھی بھی بڑا اعزاز نہیں دیا گیا اُس موقع کے لیے کہ وہ خُدا کی آواز کو خود سے سن سکتے ہیں۔ پس ایسا کوئی وقت نہیں آیا جب اُسکی دلہن اکھٹی اُسکی آواز کے چوگرد ایک ہی وقت پر متحد ہوسکے۔

تیار ہوجائیں، خُدا ہمیں اپنا مزید مکاشفہ دینے جارہا ہے اور یہ کہ ہم کون ہیں: اُسکی ناقابل تسخیر فوج، اُسکی چُنی ہوئی، انتخاب شدہ خاتون، اُسکی پیاری جسکا اُس نے وقت کے آغاز ہی سے انتظار کیا ہے۔

کوئی بھی ہم سے یہ لے نہیں سکتا۔ یہ ہمارے دلوں اور جانوں میں ایسے لنگر ہوا ہے جیسے پہلے کبھی نہ ہوا ہو۔ یہ اب ہمارے لیے حقیقت بن گئی ہے جو کہ ہمیں اُٹھائے جانے والا ایمان دے رہی ہے۔

ہم اپنے عظیم سفر کا آغاز اس اتوار 12:00 بجے، جیفرسن ویل ٹائم پر کرینگے، جبکہ ہم اپنے پہلے پیغام کو سنتے ہیں: 60-1204M یسُوع مسیح کا مکاشفہ۔

میں آپکی حوصلہ افزائی کرونگا کہ اپنی سات کلیسیائی زمانوں کی کتاب کو حاصل کریں، اور خاموشی سے اپنے کمرے میں اسکا مطالعہ کریں، باب بہ باب، ہر ہفتے۔ ہم سب اُسکی آواز سننے کے لیے اکھٹے متحد ہونگے، اور پھر اُسکے کلام کا مطالعہ کرینگے۔

بردار جوزف برینہم

26-0705 پیغام: شیطان کا عدن

اے کامل دلہن،

لیکن دشمن کی فریب کاری کو دیکھنے کے لیے، ہم نے ایسا دن کبھی نہیں دیکھا جس میں ہم اب رہ رہے ہیں۔ یہ سب سے زیادہ چالاکی، اور فریب کاری سے بھرا ہوا دن ہے۔ اور جب میں یہ دیکھتا ہوں، تو اس سے یہ بات سامنے آتی ہے، کہ، مسیحیوں کو آج ہر زمانے سے بڑھکر اپنے تلوے کو مضبوطی سے رکھنے کی ضرورت ہے۔

بردار برینہم نے ٹھیک یہ الفاظ آج ہی کے دن ٹھیک 61 سال پہلے دلہن سے بولے تھے۔ دشمن کی فریب کاری آج کے مقابلے میں 61 سال پہلے کیسی تھی؟ ایک مختلف تناظر میں دیکھیں تو 61 سال پہلے کی دُنیا کی ٹیکنالوجی آج کے مقابلے میں کیا تھی؟

پس 1961 خلائی دوڑ کا آغاز تھا، کمپیوٹر ویکیوم ٹیوبوں اور پنچ کارڈز پر کام والے کمرے کے سائز کے مین فریم تھے جنکو پروگرام کرنے کے لیے خصوصی سائنسدانوں کی ضرورت تھی۔ ٹیلی فون دیواروں سے جکڑے ہوئے تھے اور ہارڈ وائڑ اور اینالوگ کاپر لائن، ٹرانزسٹر مین فریم، مکینیکل ٹائپ رائٹرز، پیپر فائلنگ سسٹم اور ابتدائی مکینیکل کیلکولیٹر پر انحصار تھے۔

لیکن آج ہمارے پاس انٹرنیت، Artificial Intelligence کے نظام موجود ہیں جو فن تخلیق کرنے، لکھنے اور حقیقی وقت میں کاموں میں مدد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مریخ پر جانے والے ذاتی راکٹ۔ جیبی سائز کے سمارٹ فونز، سمارٹ گھڑیاں، اور ذاتی آلات جو عالمی وائرلیس نیٹ ورکس کے ذریعے چلتے ہیں جو آواز، متن اور ویڈیو کے ذریعے فوری طور اربوں لوگوں کو جوڑتے ہیں۔ Robotic assistants۔

دشمن کی چلاکی اور فریب کاری کبھی بھی ایسا نہیں ہوئی ہے۔ شیطان کا برا بیج پوری طرح پک چکا ہے اور اُس نے شیطان کے عدن کو بنا دیا ہے۔ لیکن ٹھیک اسی کے ساتھ ہی، خُدا کی دلہن بھی پوری طرح پک چکی ہے، اُسکے شاہی بیج نے خود کو بیٹے کی حضوری میں بیٹھنے کے وسیلہ تیار کرلیا ہے، جو کہ اُسکا کلام، اُسکی آواز ہے۔

خُدا جانتا تھا کہ اُسے اس دھوکے باز، بُرے دور میں اپنی دلہن کو برقرار رکھنے کے لیے ایک راستہ مہیاہ کرنا تھا۔ ایک ایسا کامل راستہ تاکہ اُنہیں کبھی بھی کچھ سوچنا، سمجھنا، یا اس پاک کلام کے لیے کسی آدمی کی باتوں کو لینا نہ پڑے۔ وہ جانتا تھا کہ اُنہیں خود سے خُدا کی آواز سننے کی ضرورت تھی، کیونکہ اُس نے ہمیں خبردار کیا کہ یہ اتنا قریب تر ہوگا کہ اگر ممکن ہو تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کرلیں۔

آدمی مسح شدہ، رُوحُ القُدس سے بھرے ہوئے ہوکر بھی، غلط ہوسکتے ہیں۔ پس اُسے راستہ مہیاہ کرنا تھا۔ لہذا، اُس نے اپنی دلہن کے لیے ایک کامل راستہ بنایا، جو کہ ناممکن معلوم ہوتا تھا جب اُس نے اپنی آواز کو 1947 میں ریکاڑد کرنا شروع کیا؛ کہ اُنگلی کے چھونے پر ہی، وہ خود ہر اُس بات کو سن سکتے جو اُس نے فرمائی، حتیٰ کہ اُنکی اپنی زبان میں بھی۔ تاکہ وہ بھی سوالات، اور کوئی بھی سوچنا سمجھنا نہ رہے۔ اور وہ خود سے خُداوند یوں فرماتا ہے کو سن سکیں۔

حتٰی کہ اُس نے ایک ایسا راستہ بھی بنایا ہے جس سے وہ اپنی دلہن کو پوری دُنیا کے چوگرد اکھٹا کرسکتا ہے تاکہ وہ اُسکی آواز کو سن سکے، اور وہ بھی ایک ہی وقت پر، کیونکہ وہ سب ایک ہی ذہن، اور ایک ہی ایمان میں ہوکر، اُسے سن سکتے ہیں۔

اُسے اپنے پیامبر کو لینا پڑا، لیکن اُسکی آواز کو چھوڑ دیا، اپنے کامل کلام اور اپنی کامل دلہن کے لیے۔ اُسکی آواز سننے اور اُسکے ساتھ ٹھہرنے کے وسیلہ، وہ جانیں گے کہ وہ کبھی دھوکہ نہیں کھائیں گے۔

اور یہ اسی طرح ہے: اسی طرح خُدا اپنی کلیسیا کو قائم کرتا ہے، ہر لفظ اپنی ہی قسم پیدا کرتا ہے! ”انسان صرف روٹی سے زندہ نہ رہے گا، بلکہ ہر ایک بات سے جو خُدا کے منہ سے نکلتی ہے۔“

ہم جانتے ہیں کہ یہ رُوحُ القُدس کے بولے گئے ہر ایک لفظ پر ایمان رکھنا ہے، لیکن میرے لیے، یہ سب سے عظیم تر اعزاز ہے جو انسان کو دیا گیا ہے۔ میں اپنے کانوں سے، سن سکتا ہوں، اُس ہر ایک کلام کی آواز کو بولتے ہوئے جو خُدا کی منہ سے نکلتی ہے۔

میرے لیے کوئی اور طریقہ نہیں ہے۔ خُدا نے اپنے بچوں کے بچانے کے لیے بہت سے راستے مہیاہ کیے ہیں، لیکن میرے لیے، خُدا نے اپنی کامل دلہن کے لیے کامل راستہ مہیاہ کیا ہے۔

آج، شیطان کلام کے اُس حصہ کو غلط سمجھا رہا ہے جو اس زمانے میں لاگو ہوتی ہے۔ وہ آپکو بتائیگا وہ سب جو یسُوع نے کیا وہ بالکل ٹھیک تھا۔ وہ آپکو بتائیگا جو کچھ بھی بردار برینہم نے کیا وہ سب بالکل ٹھیک تھا، اور یہ کہ وہ خُدا کا نبی تھا۔ لیکن جب بات واحد خُدا کی شناخت شدہ آواز کو چرچ میں چلانے کی آتی ہے، تو وہ کہتے ہیں کہ یہ آج کے دور میں لاگو نہیں ہوتا، کیونکہ صرف منسٹری ہے۔

اُسکو بس یہی کچھ کرنا ہے، دیکھیں، تاکہ لوگوں کو اس طریقے سے یقین دلا سکے، اور-اور بس یہی کچھ ہے۔ کیونکہ، ”آپ اس میں سے ایک بھی لفظ اس میں سے گھٹا نہیں سکتے، اور نہ ہی بڑھا سکتے ہیں۔“ لیکن وہ بالکل ایسا ہی کرتا ہے۔

آپکا رُوحانی لیڈر چرچ میں کس چیز کو پروموٹ کرتا ہے؟ آج دلہن کے سب سے ضروری آواز کیا ہے جو اُسے سننی چاہیے؟ آپکے پاس صرف ایک ہی میجر ہوسکتا ہے۔

 منسٹری کی آواز؟:A

 ٹیپس پر خُدا کی آواز؟:B

”ہر بیج کو اپنی ہی قسم پیدا کرنی ہے۔“ اس طرح ہی خُدا نے اپنا عدن قائم کیا تھا۔

میں منسڑی یا مناد کا مخالف نہیں ہوں۔ میں جانتا، اور ایمان رکھتا ہوں، کہ خُدا نے اُنہیں بلایا ہے۔ لیکن میرے لیے، حقیقی منسڑی جماعت کو بتائیگی کہ ٹیپس پر جو آواز ہے وہ سب سے ضروری آواز ہے جو اُنہیں سننی چاہیے، اُنہیں اپنے چرچ میں ٹیپس کو چلانا چاہیے، کیونکہ وہ میجر آواز ہے۔

پس میرے اور میرے گھر کے لیے، اور برینہم ٹیبرنیکل کے لیے، ہم خُدا کے کامل مہیاہ کردہ راستہ کے ساتھ ٹھہرے رہیں گے۔ ہم پریس پلے کرکے خُدا کی آواز کو سنیں گے۔

میں دُنیا کو دعوت دینا پسند کرونگا کہ آئیں اور ہمارے ساتھ اس اتوار اُس آواز کو سننے کے لیے جُڑیں 12:00 بجے، جیفرسن ویل ٹائم پر، جبکہ ہم ایک بار پھر سے اُسکے چُنے ہوئے آج کے مہیاہ کردہ راستے کے چوگرد متحد ہوتے ہیں۔

بردار جوزف برینہم

پیغام: شیطان کا عدن 65-0829

پیغام سے پہلے پڑھنے کے لیے حوالہ جات:

2 Timothy 3:1-9
Revelation 3:14
2 Thessalonians 2:1-4
Isaiah 14:12-14
Matthew 24:24

An Independent Church of the WORD,