Message: 60-1208 تھواتیرہ کا کلیسیائی زمانہ
26-0809 پرگمُن کا کلیسیائی زمانہ
Message: 60-1207 پرگمُن کا کلیسیائی زمانہ
26-0802 سمُرنہ کا کلیسیا ئی زمانہ
Message: 60-1206 سمُرنہ کا کلیسیا ئی زمانہ
26-0726 اِفِسُس کا کلیسیائی زمانہ
Message: 60-1205 اِفِسُس کا کلیسیائی زمانہ
26-0719 پتُمس کی رویا
26-0712 یسُوع مسیح کا مُکاشفہ
Message: 60-1204M یسُوع مسیح کا مُکاشفہ
اے نبوتی درجے کے لوگوں،
ہم کس قدر کلام سے پیار کرتے ہیں، جو کہ مکاشفہ ہے! ایک سچے ایماندار کے لیے رُوحُ القُدس کے وسیلہ تمام حقیقی مکاشفہ کی اہمیت پر کبھی بھی زیادہ زور دیا نہیں جاسکتا۔ مکاشفہ دلہن کے لیے زندگی سے بڑھ کر ہے؛ کیونکہ اس چٹان، یعنی کہ مکاشفہ پر، میں اپنی کلیسیا قائم کرونگا، اور خُدا کے فضل اور اُسکے رحم کے وسیلہ، ہم ہی اُسکے سچے مکاشفہ کے وسیلہ اُسکی حقیقی کلیسیا ہے۔
مکاشفہ کی کتاب ہر کسی کے لیے نہیں ہے۔ کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو اسے سمجھ سکے۔ یہ ایک نبوتی کتاب ہے جو صرف، ایک خاص نبوتی درجے لوگوں کے لیے لکھی گئی ہے، اور وہی اسے سمجھ سکتے ہیں: یعنی کے ہم، جو کہ یسُوع مسیح کی دلہن ہیں۔
یہ پوری بائبل میں وہ واحد کتاب ہے جو خود مسیح نے لکھی ہے، لیکن اُس نے اسکی نشاندہی کرنے کے لیے اپنے فرشتہ کو بھیجا جو کہ اُسکا خادم یوحنا تھا۔ پس شاگردوں کو ان ریکارڈ ہوئی سچائیوں کا نہیں پتہ تھا۔ کیونکہ یہ اُن پر پہلے آشکارا ہی نہیں کی گئی تھیں۔ حٰتی کہ یسُوع بھی اس میں اپنے مقام کو نہیں بتاسکتا تھا؛ کیونکہ باپ نے یہ اُس پر آشکارا ہی نہیں کیا تھا۔
لیکن اب، اُسکی موت اور جی اُٹھنے کے بعد، اور اس خاص وقت پر، وہ اُس مقام پر ہے کہ وہ اپنا مکاشفہ یوحنا کے سامنے ظاہر کرسکتا ہے، کہ اُسکا جلال اور حضوری چرچ میں کیا اہمیت رکھے گی اور وہ کیا کریگی۔
حتٰی کہ اب بھی، دو ہزار سالوں بعد، دُنیا غور و فکر میں ہے، تھیولوجنز نے اسکا مطالعہ کیا ہے اور وہ اس پر غور کر رہے ہیں، لیکن کسی کے پاس بھی اسکی حقیقی ترجمانی اور ان بھیدوں کا مکاشفہ آج تک نہیں ہے، جو کہ مکاشفہ کی کتاب میں لکھے ہوئے ہیں، پس یہ اس وقت تک ہی تھا، جب خُدا نے اُسی فرشتہ کو زمین پر واپس بھیجا تا کہ یہ سب کچھ ہم پر آشکارا کرے، ہم جو کہ اُسکی چُنی ہوئی دلہن ہیں۔
اُس اہمیت کو سمجھنا کہ خُدا نے مجھے چُنا، اور اُس نے آپکو چُنا؛ اور پھر اُسکے کلام کا حقیقی مکاشفہ ہونا انسانی وضاحت سے باہر ہیں۔ جبکہ بہت سے ہیں جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اس میسج کی پیروی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ ایمان رکھتے ہیں کہ خُدا نے نبی کو بھیجا ہے، لیکن اُنکے پاس مکمل مکاشفہ نہیں ہے یہ جاننے میں کہ اُسکی آواز کو سب سے ضروری آواز سننے کے لیے بننے کا مرتبہ کیا ہے۔ اُسکی آواز کا اس زمانہ میں مکاشفہ ہونا حقیقی طور پر ایک عظیم قیمت کا بیش قیمت موتی ہے۔
خُدا نے اپنا حقیقی مکاشفہ آشکارا کرنے کے لیے ہمیں چُنا ہے۔ لہذا، ہم اُسکی حقیقی کلیسیا ہیں، اُسکی ناقابل تسخیر فوج جسکے سامنے شیطان کی کوئی طاقت نہیں چل سکتی، اور وہ یقیناً ناکام ہے۔ ہماری زندگیوں میں اُسکے حقیقی مکاشفہ کے ساتھ، عالم ارواح کے دروازے ہم پر غالب نہیں آسکتے، لیکن ہم اُن پر غالب آسکتے ہیں۔ کوئی بھی چیز ہمارے سامنے کھڑے نہیں رہ سکتی۔
پس آج کے زمانے کا حقیقی اور مکمل مکاشفہ یہ پہچاننے میں ہے کہ خُدا کی آواز کی ہمارے زمانہ میں کیا اہمیت ہے۔ اگر چرچ جانا، چرچ سے تعلق رکھنا، قربانیاں گذراننا، دُعائیں کرنا، اور خُدا کی پرستش کرنا ہی خُدا کی مکمل ضرورت ہے، تو پھر خُدا ناانصاف ہوگا کہ قائن کو بالکل وہی کرنے کے لیے مجرم ٹھہرائے جو اُس نے کرنے کو کہا تھا۔
پس ٹیپس پر آواز ہمارے لیے یہ معنی رکھتی ہے:
تمام چیزوں کا مکاشفہ یہاں آخر پر رکھا گیا ہے برکت اُنکے واسطے جو اسکو پڑھتے اور اسکو سنتے ہیں، لعنت اُنکے واسطے جو اس میں کچھ شامل کریں یا کچھ نکالیں۔ یہ مکمل مجموعہ ہے، اوہ، بلکہ کامل ہے۔ اس میں کچھ بھی شامل نہیں کیا جاسکتا۔ اور جب کوئی شخص اس میں سے کچھ نکالنے، یا کچھ شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو خُدا نے فرمایا ہے کہ وہ کتاب حیات میں سے اُسکا حصہ نکال دیگا۔ سمجھے؟ اگر کوئی اس میں کچھ شامل کرتا ہے، تو خُدا کتاب میں سے اُسکا حصہ نکال دیگا۔
جیسا کہ پہلے کبھی نہیں ہوا، خُدا نے ایک کامل راستہ مہیاہ کیا ہے نہ کہ اُسکے کلام میں سے کچھ نکلانے یا بڑھانے کے لیے۔ اُس نے ہمیں یہ موقع بخشا ہے کہ اُسکی آواز کو سن سکیں جبکہ وہ بولتا ہے اور اپنے کلام کو ہم پر آشکارا کرتا ہے۔ بالکل سادگی سے اس سے بڑھ کر اور کچھ نہیں ہوسکتا۔
یہی آج کے لیے حقیقی مکاشفہ ہے۔
میں بہت پُرجوش ہوں اور ایک عظیم توقع کے نیچے ہوں اُس سب کے لیے جو خُداوند نے ہمارے لیے ذخیرہ کیا ہے جبکہ ہم سنتے ہیں، پڑھتے ہیں، اور سات کلیسیائی زمانوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔ خُدا نے لکھا، اور اپنے فرشتے کو بھیجا تاکہ یوحنا پر ظاہر کرسکے، اور پھر اُس نے ہمارے لیے انتظار کیا تاکہ ہم اس لمحہ زمین پر آسکیں تاکہ وہ دوبارہ سے اپنے اُسی فرشتہ کو بھیج کر ہم پر یہ آشکارا کرے!
پس دُنیا کی تاریخ میں اس سے بڑھ کر کوئی بھی جلالی دن نہیں آیا جو کہ اب ہے۔ انسان کو اس سے کبھی بھی بڑا اعزاز نہیں دیا گیا اُس موقع کے لیے کہ وہ خُدا کی آواز کو خود سے سن سکتے ہیں۔ پس ایسا کوئی وقت نہیں آیا جب اُسکی دلہن اکھٹی اُسکی آواز کے چوگرد ایک ہی وقت پر متحد ہوسکے۔
تیار ہوجائیں، خُدا ہمیں اپنا مزید مکاشفہ دینے جارہا ہے اور یہ کہ ہم کون ہیں: اُسکی ناقابل تسخیر فوج، اُسکی چُنی ہوئی، انتخاب شدہ خاتون، اُسکی پیاری جسکا اُس نے وقت کے آغاز ہی سے انتظار کیا ہے۔
کوئی بھی ہم سے یہ لے نہیں سکتا۔ یہ ہمارے دلوں اور جانوں میں ایسے لنگر ہوا ہے جیسے پہلے کبھی نہ ہوا ہو۔ یہ اب ہمارے لیے حقیقت بن گئی ہے جو کہ ہمیں اُٹھائے جانے والا ایمان دے رہی ہے۔
ہم اپنے عظیم سفر کا آغاز اس اتوار 12:00 بجے، جیفرسن ویل ٹائم پر کرینگے، جبکہ ہم اپنے پہلے پیغام کو سنتے ہیں: 60-1204M یسُوع مسیح کا مکاشفہ۔
میں آپکی حوصلہ افزائی کرونگا کہ اپنی سات کلیسیائی زمانوں کی کتاب کو حاصل کریں، اور خاموشی سے اپنے کمرے میں اسکا مطالعہ کریں، باب بہ باب، ہر ہفتے۔ ہم سب اُسکی آواز سننے کے لیے اکھٹے متحد ہونگے، اور پھر اُسکے کلام کا مطالعہ کرینگے۔
بردار جوزف برینہم
26-0705 پیغام: شیطان کا عدن
اے کامل دلہن،
لیکن دشمن کی فریب کاری کو دیکھنے کے لیے، ہم نے ایسا دن کبھی نہیں دیکھا جس میں ہم اب رہ رہے ہیں۔ یہ سب سے زیادہ چالاکی، اور فریب کاری سے بھرا ہوا دن ہے۔ اور جب میں یہ دیکھتا ہوں، تو اس سے یہ بات سامنے آتی ہے، کہ، مسیحیوں کو آج ہر زمانے سے بڑھکر اپنے تلوے کو مضبوطی سے رکھنے کی ضرورت ہے۔
بردار برینہم نے ٹھیک یہ الفاظ آج ہی کے دن ٹھیک 61 سال پہلے دلہن سے بولے تھے۔ دشمن کی فریب کاری آج کے مقابلے میں 61 سال پہلے کیسی تھی؟ ایک مختلف تناظر میں دیکھیں تو 61 سال پہلے کی دُنیا کی ٹیکنالوجی آج کے مقابلے میں کیا تھی؟
پس 1961 خلائی دوڑ کا آغاز تھا، کمپیوٹر ویکیوم ٹیوبوں اور پنچ کارڈز پر کام والے کمرے کے سائز کے مین فریم تھے جنکو پروگرام کرنے کے لیے خصوصی سائنسدانوں کی ضرورت تھی۔ ٹیلی فون دیواروں سے جکڑے ہوئے تھے اور ہارڈ وائڑ اور اینالوگ کاپر لائن، ٹرانزسٹر مین فریم، مکینیکل ٹائپ رائٹرز، پیپر فائلنگ سسٹم اور ابتدائی مکینیکل کیلکولیٹر پر انحصار تھے۔
لیکن آج ہمارے پاس انٹرنیت، Artificial Intelligence کے نظام موجود ہیں جو فن تخلیق کرنے، لکھنے اور حقیقی وقت میں کاموں میں مدد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مریخ پر جانے والے ذاتی راکٹ۔ جیبی سائز کے سمارٹ فونز، سمارٹ گھڑیاں، اور ذاتی آلات جو عالمی وائرلیس نیٹ ورکس کے ذریعے چلتے ہیں جو آواز، متن اور ویڈیو کے ذریعے فوری طور اربوں لوگوں کو جوڑتے ہیں۔ Robotic assistants۔
دشمن کی چلاکی اور فریب کاری کبھی بھی ایسا نہیں ہوئی ہے۔ شیطان کا برا بیج پوری طرح پک چکا ہے اور اُس نے شیطان کے عدن کو بنا دیا ہے۔ لیکن ٹھیک اسی کے ساتھ ہی، خُدا کی دلہن بھی پوری طرح پک چکی ہے، اُسکے شاہی بیج نے خود کو بیٹے کی حضوری میں بیٹھنے کے وسیلہ تیار کرلیا ہے، جو کہ اُسکا کلام، اُسکی آواز ہے۔
خُدا جانتا تھا کہ اُسے اس دھوکے باز، بُرے دور میں اپنی دلہن کو برقرار رکھنے کے لیے ایک راستہ مہیاہ کرنا تھا۔ ایک ایسا کامل راستہ تاکہ اُنہیں کبھی بھی کچھ سوچنا، سمجھنا، یا اس پاک کلام کے لیے کسی آدمی کی باتوں کو لینا نہ پڑے۔ وہ جانتا تھا کہ اُنہیں خود سے خُدا کی آواز سننے کی ضرورت تھی، کیونکہ اُس نے ہمیں خبردار کیا کہ یہ اتنا قریب تر ہوگا کہ اگر ممکن ہو تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کرلیں۔
آدمی مسح شدہ، رُوحُ القُدس سے بھرے ہوئے ہوکر بھی، غلط ہوسکتے ہیں۔ پس اُسے راستہ مہیاہ کرنا تھا۔ لہذا، اُس نے اپنی دلہن کے لیے ایک کامل راستہ بنایا، جو کہ ناممکن معلوم ہوتا تھا جب اُس نے اپنی آواز کو 1947 میں ریکاڑد کرنا شروع کیا؛ کہ اُنگلی کے چھونے پر ہی، وہ خود ہر اُس بات کو سن سکتے جو اُس نے فرمائی، حتیٰ کہ اُنکی اپنی زبان میں بھی۔ تاکہ وہ بھی سوالات، اور کوئی بھی سوچنا سمجھنا نہ رہے۔ اور وہ خود سے خُداوند یوں فرماتا ہے کو سن سکیں۔
حتٰی کہ اُس نے ایک ایسا راستہ بھی بنایا ہے جس سے وہ اپنی دلہن کو پوری دُنیا کے چوگرد اکھٹا کرسکتا ہے تاکہ وہ اُسکی آواز کو سن سکے، اور وہ بھی ایک ہی وقت پر، کیونکہ وہ سب ایک ہی ذہن، اور ایک ہی ایمان میں ہوکر، اُسے سن سکتے ہیں۔
اُسے اپنے پیامبر کو لینا پڑا، لیکن اُسکی آواز کو چھوڑ دیا، اپنے کامل کلام اور اپنی کامل دلہن کے لیے۔ اُسکی آواز سننے اور اُسکے ساتھ ٹھہرنے کے وسیلہ، وہ جانیں گے کہ وہ کبھی دھوکہ نہیں کھائیں گے۔
اور یہ اسی طرح ہے: اسی طرح خُدا اپنی کلیسیا کو قائم کرتا ہے، ہر لفظ اپنی ہی قسم پیدا کرتا ہے! ”انسان صرف روٹی سے زندہ نہ رہے گا، بلکہ ہر ایک بات سے جو خُدا کے منہ سے نکلتی ہے۔“
ہم جانتے ہیں کہ یہ رُوحُ القُدس کے بولے گئے ہر ایک لفظ پر ایمان رکھنا ہے، لیکن میرے لیے، یہ سب سے عظیم تر اعزاز ہے جو انسان کو دیا گیا ہے۔ میں اپنے کانوں سے، سن سکتا ہوں، اُس ہر ایک کلام کی آواز کو بولتے ہوئے جو خُدا کی منہ سے نکلتی ہے۔
میرے لیے کوئی اور طریقہ نہیں ہے۔ خُدا نے اپنے بچوں کے بچانے کے لیے بہت سے راستے مہیاہ کیے ہیں، لیکن میرے لیے، خُدا نے اپنی کامل دلہن کے لیے کامل راستہ مہیاہ کیا ہے۔
آج، شیطان کلام کے اُس حصہ کو غلط سمجھا رہا ہے جو اس زمانے میں لاگو ہوتی ہے۔ وہ آپکو بتائیگا وہ سب جو یسُوع نے کیا وہ بالکل ٹھیک تھا۔ وہ آپکو بتائیگا جو کچھ بھی بردار برینہم نے کیا وہ سب بالکل ٹھیک تھا، اور یہ کہ وہ خُدا کا نبی تھا۔ لیکن جب بات واحد خُدا کی شناخت شدہ آواز کو چرچ میں چلانے کی آتی ہے، تو وہ کہتے ہیں کہ یہ آج کے دور میں لاگو نہیں ہوتا، کیونکہ صرف منسٹری ہے۔
اُسکو بس یہی کچھ کرنا ہے، دیکھیں، تاکہ لوگوں کو اس طریقے سے یقین دلا سکے، اور-اور بس یہی کچھ ہے۔ کیونکہ، ”آپ اس میں سے ایک بھی لفظ اس میں سے گھٹا نہیں سکتے، اور نہ ہی بڑھا سکتے ہیں۔“ لیکن وہ بالکل ایسا ہی کرتا ہے۔
آپکا رُوحانی لیڈر چرچ میں کس چیز کو پروموٹ کرتا ہے؟ آج دلہن کے سب سے ضروری آواز کیا ہے جو اُسے سننی چاہیے؟ آپکے پاس صرف ایک ہی میجر ہوسکتا ہے۔
منسٹری کی آواز؟:A
ٹیپس پر خُدا کی آواز؟:B
”ہر بیج کو اپنی ہی قسم پیدا کرنی ہے۔“ اس طرح ہی خُدا نے اپنا عدن قائم کیا تھا۔
میں منسڑی یا مناد کا مخالف نہیں ہوں۔ میں جانتا، اور ایمان رکھتا ہوں، کہ خُدا نے اُنہیں بلایا ہے۔ لیکن میرے لیے، حقیقی منسڑی جماعت کو بتائیگی کہ ٹیپس پر جو آواز ہے وہ سب سے ضروری آواز ہے جو اُنہیں سننی چاہیے، اُنہیں اپنے چرچ میں ٹیپس کو چلانا چاہیے، کیونکہ وہ میجر آواز ہے۔
پس میرے اور میرے گھر کے لیے، اور برینہم ٹیبرنیکل کے لیے، ہم خُدا کے کامل مہیاہ کردہ راستہ کے ساتھ ٹھہرے رہیں گے۔ ہم پریس پلے کرکے خُدا کی آواز کو سنیں گے۔
میں دُنیا کو دعوت دینا پسند کرونگا کہ آئیں اور ہمارے ساتھ اس اتوار اُس آواز کو سننے کے لیے جُڑیں 12:00 بجے، جیفرسن ویل ٹائم پر، جبکہ ہم ایک بار پھر سے اُسکے چُنے ہوئے آج کے مہیاہ کردہ راستے کے چوگرد متحد ہوتے ہیں۔
بردار جوزف برینہم
پیغام: شیطان کا عدن 65-0829
پیغام سے پہلے پڑھنے کے لیے حوالہ جات:
2 Timothy 3:1-9
Revelation 3:14
2 Thessalonians 2:1-4
Isaiah 14:12-14
Matthew 24:24
26-0628 ایک باشعور شخص کا فلٹر
26-0621 مسیح اپنے خود کے کلام میں آشکارا ہے
اے ملکہ،
اور آج دلہن کو مسیح کے بدن میں سے نکالا گیا ہے، جو بالکل اُسی طرح عمل کررہی ہے اور ٹھیک اُسی طریقے سے رہ رہی ہے جیسے اُس نے کہا تھا کہ وہ اس زمانہ میں کریگی، دلہن، جو کہ ملکہ ہے: پس یہ بادشاہ اور ملکہ ہیں۔
جب یسُوع وہ مکمل کلام بن گیا، تو پھر ہم تب اُسکا حصہ تھے۔ پس کوئی بھی ابلیس نہیں ہے، اور نہ ہی کوئی ایسی طاقت، جو کبھی ہم سے اس چیز کو چھین سکے۔ یہ رُوح کی ٹائی پوسٹ ہے۔
ہر ایک پیغام کو سننے کے وسیلہ دلہن کے درمیان کیا ہی بیداری واقعہ ہورہی ہے۔ اسکا اظہار کرنا فانی لفظوں سے پرے ہے۔ شک کا کوئی سایہ بھی نہیں ہے، خُدا نے ہمیں چُنا ہے اور ہمیں اُسکے کلام کا آج کے زمانہ میں حقیقی مکاشفہ دیا ہے۔ لہذا، ہم جانتے ہیں کہ ہم کون ہیں، ہم اُسکی ملکہ ہیں۔
خُدا کی آواز ٹیپس کے وسیلہ دلہن سے بات کرکے اُسے کامل کررہی ہے۔ پس کوئی اور منسڑی نہیں ہے، کوئی اور آواز نہیں ہے؛ کوئی بھی ایسی چیز نہیں ہے جو دلہن کو کامل کرسکے سوائے خود خُدا کے جو کہ انسانی ہونٹون کے وسیلہ دلہن سے براہ راست بات کررہا ہے۔ دوسرے شاید کسی متبادل کو چاہتے ہوں، لیکن اُسکی دلہن اُسکی آواز کے علاوہ کسی اور چیز کو نہیں چاہے گی، یہ جو اُسکی دلہن کے لیے لیو لیٹر ہے؛ کیونکہ اُسکی بھیڑیں صرف اُسی کی آواز سننا چاہتی ہیں۔
لوگ کہتے ہیں کہ ہم نبی پر بہت زیادہ زور دیتے ہیں۔ یہ بہت عجیب بات ہے کہ لوگ یہ تسلیم نہیں کرتے کہ عظیم آسمانی باپ نے خود اپنے فرشتے کا اتنا خیال رکھا کہ اُس نے اپنے بارے میں ہر تفصیل کو اتنی اہمیت دی۔ اُس نے جسطرح کا لباس پہنا، جس طرح سے اُس نے کام کیے، اُسکا کردار، اُسکی عدات۔
یہاں تک کہ اُس نے اسے اُسی قسم کے کپڑے پہنائے جو وہ پہنتا تھا۔ اُسکی فطرت، اُسکی آوزو، سب کچھ جس طرح سے اسے ہونا تھا، پس خود خُدا نے ہمارے لیے ٹھیک منتخب کیا…پھر کہتے ہیں کہ ہم نبی کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔
ہمارے لیے، ٹیپس پر جو آواز ہے وہ کسی آدمی کی نہیں ہے، نہ ہی وہ کسی آدمی نے فرمائی ہیں، اور نہ ہی وہ کسی آدمی کے وسیلہ لائی گئی ہیں، اور نہ ہی ان باتوں کو کوئی آدمی آشکارا کرسکتا ہے۔ یہ خُدا کا کلام ہے جو خود خُدا کی طرف سے آشکارا کیا گیا ہے، وہ جو خود اپنا ترجمان ہے، یہ مسیح ہے جو خود کو اپنے کلام میں آشکارا کررہا ہے۔
کچھ سن سکتے ہیں، لیکن پوری طرح پہچانتے نہیں ہیں۔ آپ اُنہیں بتا سکتے ہیں، دکھا سکتے ہیں، لیکن وہ پھر بھی اسے دیکھ نہیں سکتے۔ ہم اُن سے پیار کرتے ہیں، اُنکے لیے دُعا کرتے ہیں، لیکن خُدا نے جو ہم پر آشکارا کیا ہے وہ اُسکی کاملیت ہے۔
یہاں آج مسیح کی دلہن کے درمیان عظیم تقسیم کے لیے لٹمس ٹیسٹ ہے جو کہتا ہے کہ اُنکے پاس اس عظیم آخری وقت کے پیغام کا حقیقی مکاشفہ ہے۔
لٹمس ٹیسٹ کے معنی، ایک واحد، فیصلہ کن عنصر، سوال، یا واقعہ جو فوری طور پر کسی چیز (یا کسی) کی اصل نوعیت، معیار، یا پوزیشن کو ظاہر کرتا ہے۔
مجھے یہ پہلے پھر سے کہنے دیں، میں حقیقی خُدا کی بلائی گئی منسڑی پر ایمان رکھتا ہوں۔ ہر ایک آفس کی ضرورت، اور جگہ ہے۔ کلام یہ ضرور فرماتا ہے کہ آدمیوں کی منسڑی مقدسین کو کامل کرنے کے لیے ہے، لیکن وہ یہ نہیں فرماتی کہ ہر ایک 5 FOLD MINISTRY مقدسین کو کامل کریگی۔ بردار برینہم بالکل سادگی سے ہمیں بتاتے ہیں کہ منسڑی ہر ایک زمانہ میں گمراہ ہوجاتی ہے، تو وہ کیسے دلہن کو کامل کرسکتے ہیں؟
پس بہت، بہت زیادہ تعداد میں مناد، اُستاد، رسول اور نبیوں نے منادی کی ہے کہ وہ اس اینڈ ٹائم مسیج پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ کہ بردار برینہم مکاشفہ10:7 کی آواز تھا، لیکن جو اب یہ کہتے ہیں کہ وہ جھوٹا تھا، وہ دھوکے باز تھا، اور ہم فرقہ ہیں۔
یہ بہت ہی معزز مناد تھے جنکی بڑی جماعتیں تھیں جنہوں نے دُنیا کا سفر کیا اور خدمت کی۔ انہیں 5 FOLD MINISTRY میں عظیم رہنما سمجا جاتا تھا، یہ کنونشنوں اور امریکہ کے گرجا گھروں میں منادی کرتے تھے۔ لوگوں کی نظر میں انکی ایک عظیم منسڑی تھی، اور وہ انکی پیروی کرتے تھے اور انہیں خُدا کے عظیم خُدام مانتے تھے۔
پھر آج ایسے مناد ہیں جنہیں دُنیا بھر میں حقیقی 5 Fold خُدام مانا جاتا ہے جو یہ دعوٰی کرتے ہیں کہ وہ اس میسج پر ایمان رکھتے ہیں اور وہ اسکو قوٹ کرتے ہیں اور اسکی منادی کرتے ہیں، لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں یہ میسج اُنکا مطلق نہیں ہے۔ one-man میسج کے دن گذر چکے ہیں۔ پس 5-fold منسڑی ہی اب دلہن کو کامل کریگی، اور چرچز میں ٹیپس چلانا بالکل غلط ہے، وہ پس کچھ بیانات کو قوٹ کرتے ہیں۔
ہم جانتے ہیں کہ آخری وقت میں جھوٹے مسح شدہ لوگ ہونگے؛ نبی نے ہمیں خبردار کیا کہ ہم اُن پر نظر رکھیں۔ اُنکی منسڑی مسح شدہ ہوگی۔ اُنکے پاس رُوح القُدس بھی ہوگا، حالانکہ وہ اس زمانے کے پیغام کو بھی قوٹ کرینگے۔ یہ اتنا قریب تر ہوگا کہ اگر ممکن ہو تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کرلیں۔
پس یہ تنظیمیں نہیں ہیں۔ یہ برگزیدوں کو گمراہ نہیں کرسکتے۔ لہذا، یہ کوئی ایسا ہی کرسکتا ہے جو بہت قریب تر ہے۔ اسکا یہ مطلب نہیں کہ ہر ایک مناد گمراہ ہوچکا ہے، ہرگز نہیں۔ پس خُدا کے بہت عظیم خُدام ہیں جو سچائی کی منادی کرتے ہیں اور اسے سیکھاتے ہیں، لیکن کچھ ایسا ہے جو ہر ایک بیلور کو پہچاننا اور خود سے پوچھنا چاہیے:
کیا وہ مناد جسکی آپ پیروی کررہے ہیں وہ غلطی کرسکتا ہے؟
کیا آپ ہر اُس بات پر آمین کہہ سکتے ہیں جو وہ بولتا ہے؟
کیا آپ ایمان رکھتے ہیں کہ ہر ایک بات جو وہ سیکھاتا ہے وہ خُداوند یوں فرماتا ہے؟
کیا اُسکی آواز سب سے ضروری آواز جو آپکو سننی چاہیے؟
کیا وہ غلط چیز کی منادی کرسکتا ہے؟
کیا وہ اس میسج کی منادی کرنے کے تیس سال بعد بھی غلط ہوسکتا ہے؟ کیا وہ ٹل سکتا ہے؟
کیا وہ آپکو غلط چیزیں بتا سکتا ہے؟
کیا وہ دھوکہ کھا سکتا ہے؟
اب خود سے یہ سوال شناخت شدہ خُدا کی آواز کے متعلق پوچھیں جو کہ آپ ٹیپس پر سنتے ہیں۔
کیا ٹیپس پر جو پیغام ہے وہ غلطیاں کرسکتا ہے: نہیں
کیا آپ ایمان رکھ کر ہر اُس بات پر آمین بول سکتے ہیں جو وہ کہتا ہے؟ جی ہاں
کیا یہ ٹل سکتی ہے؟ نہیں
کیا یہ غلط چیزوں کی منادی کرسکتی ہے؟ نہیں
کیا یہ آپکو غلط چیز بتاسکتی ہے؟ نہیں
کیا آپ ہر سننے والی بات پر اپنی ابدی منزل کو داؤ پر لگا سکتے ہیں…جی ہاں!!!
کیا یہ خُدا کی آواز ہے: جی ہاں
میں یہ باتیں کیوں کہہ رہا ہوں؟ تاکہ یہ دکھا سکوں کہ تمام آدمی، غلطی کرتے ہیں، اور کرسکتے ہیں، لیکن ٹیپس پر جو خُدا کی آواز ہے وہ کبھی غلطی نہیں کرسکتی۔ پس یہی وجہ ہے کہ یہ سب سے ضروری آواز جو آپکو سننی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ منسڑی کو چرچز میں ٹیپس کو چلانا چاہیے۔ یہ خُدا کا کامل مہیاہ کردہ راستہ ہے جو اُس نے اپنی دلہن کے لیے بنایا ہے۔
یقیناً، میں یہ ایمان رکھتا ہوں کہ آپ باقیوں کو سن سکتے ہیں، لیکن واحد آواز جو آپکو سننی چاہیے اور ہر ایک بات جس پر آمین کہنا چاہیے وہ ٹیپس پر ہے۔ یہی وہ واحد آواز ہے جسکی ہر ایک بات پر ہم آمین کہہ سکتے ہیں۔
یہ خُدا کا حکم ہے، آپکو ہر ایک بات پر ایمان رکھنا چاہیے، اور وہ کلام جو آپ ٹیپس پر سنتے ہیں یہ وہ واحد کلام ہے جسکی شناخت آگ کے ستون کے وسیلہ کی گئی کہ یہ سچائی ہے۔ خُدا نے کہا ولیم میرئین برینہم اُسکے کلام کا الہٰی ترجمان ہے، کیونکہ یہ اسکا کلام نہیں ہے، بلکہ یہ خُدا کا کلام ہے۔
ایک بھی نقطے اور شوشے کو نہ بدلو۔ کوئی آدمی اتنا کامل نہیں ہے؛ صرف خُدا کی آواز ہی اتنی کامل ہے۔ حتیٰ کہ جب ہمیں بھی سمجھ نہیں لگتی جو ہم سنتے ہیں، تو ہمیں صرف ایمان رکھنا ہوتا ہے کہ یہ اُسکی دلہن کے لیے خُدا کی شناخت شدہ آواز ہے۔
حقیقی طور پر، رُوحُ القُدس خُدا کے خُدام کی رہنمائی کررہا ہے۔ یقیناً، رُوحُ القُدس نے اُنہیں پاسٹرز اور مناد اور اُستاد ہونے کے لیے بلایا ہے؛ یہ سچائی ہے، لیکن وہ کامل نہیں ہیں۔ لیکن خُدا نے راستہ بنایا ہے کہ آپ کامل کلام کو سن سکتے ہیں ہر بار جب آپ اکھٹے ہوتے ہیں۔
لوگ، اور حتیٰ کہ منسڑی بھی، آج کسی متبادل کو چاہتی ہے۔ کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ کوئی ایک مناد کے ساتھ وہی کرے جو وہ بردار برینہم کے ساتھ کرتے ہیں؟… ”میں تمہیں تیس منٹ دونگا اور تمہیں رُک جانا ہے، میرے پاس پیغام ہے جو مجھے لانا ہے۔
تم کبھی بھی ٹیپس کو سن سکتے ہو۔ میں جانتا ہوں کہ جماعت وہ سننا چاہتی ہے جو کہ آج حال میں چل رہا ہے۔“ بہت سے تو ٹیپ کا کچھ حصہ بھی نہیں چلائیں گے، اور کہتے ہیں کہ چرچز میں ٹیپس کو چلانا غلط ہے۔
کیا اُنکے ٹھیک ذہن میں کوئی بھی ایسے مناد کا تصور کرسکتا ہے جو اپنے چرچ میں خُدا کی آواز نہ چلانے کے لیے کوئی بہانہ، کوئی بھی بہانا بنائے کیونکہ وہ یقین رکھتا ہے کہ اُسے منادی کرنی ہے؟ وہ یہ کہتے ہیں، لیکن وہ یہ ایمان نہیں رکھتے کہ یہ خُدا کی آواز ہے، ورنہ وہ ٹیپس کو چلانے کا کبھی کوئی بہانا بنائے ہی نہ۔
کیسے کوئی ایک یہ دعوٰی کرسکتا ہے کہ وہ ایمان رکھتا ہے کہ یہ خُدا کی آواز ہے اور وہ اسے چرچ میں چلانا نہیں چاہتا؟ کیسے وہ لوگ یہ دعوٰی کرتے ہیں کہ وہ ایمان رکھتے ہیں کہ یہ خُدا کی آواز بول رہی ہے اور وہ اپنے پاسٹرز سے ڈیمانڈ نہیں کرتے ہیں کہ ٹیپس کو اُنکے چرچز میں چلایا جائے؟ ایسا اسی لیے کیونکہ وہ ایک ہی رُوح میں نہیں ہیں۔
نیکدیمس کی طرح مت بنیں اور کہیں، ”میں دیکھتا ہوں اور ایمان رکھتا ہوں۔ یہ ابن آدم ہے جو خود کو انسانی جسم میں ظاہر کررہا ہے۔ یہ خُداوند یوں فرماتا ہے۔ یہ ایک کامل میسج ہے۔ ان ٹیپس پر خُدا کی آواز ہے، لیکن میں اپنی منسٹری کو کم نہیں کرسکتا اور یہ نہیں کہہ سکتا ہے یہ میرے چرچ کے لیے یہ سب سے ضروری آواز ہے جو اسے سننی چاہیے۔“
بھائیوں اور بہنوں، آپ شاید پوری طرح اس بات پر میرے ساتھ متفق نہ ہوں۔ میں کہتا بھی نہیں ہوں کہ آپ ہوں۔ واحد چیز، آپ ذرہ اسکے متعلق سوچیں۔ آپ جو کچھ مجھ سے کہیں گے، میں اسکے متعلق سوچوں گا۔ اگر مناد اپنے چرچ کو کہتے ہیں کہ وہ ٹیپس کو چرچز میں چلانے پر ایمان نہیں رکھتے، یہ میرے بھائی، ٹھیک ہے۔ آپ اُنہیں وہی کچھ کھلائیں جو آپ چاہتے ہیں۔
میں اپنی پوری کوشش کررہا ہوں کہ کلام کے ساتھ ٹھیک ٹھہرا رہوں، کیونکہ بھیڑ بھیڑ کے کھانے کے سوا اور کچھ نہیں چاہتی اور ہم ایمان رکھتے ہیں کہ ٹیپس پر جو آواز ہے وہی ہمارا بھیڑ والا کھانا ہے۔ اسی سے ہم جیتے ہیں: ہر ایک بات جو کہ نکلتی ہے… صرف اب یا تب کلام نہیں؛ لیکن ہر ایک بات جو خُدا کے منہ سے نکلتی ہے اور ٹیپس پر فرمائی گئی ہے: پس اسی کے وسیلہ ہم جیتے ہیں۔
خُدا مجھے معاف کرے اور آپ بھی مجھے معاف کریں اگر آپکو برا لگا ہے یا کچھ غلط کہا ہے۔ پس یہی وہ ہے جس پر ہم ایمان رکھتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ یہ سچائی ہے جسکے وسیلہ ہم جیتے ہیں۔ خُدا نے ہمیں اُسکی آواز سننے کا کامل راستہ دیا ہے اور ہم اس سے پیار کرتے ہیں۔
ہمیشہ کی طرح، میں ہر ایک کو دعوت دیتا ہوں جو ہمارے ساتھ جُڑنا چاہتے ہیں کہ آئیں اور ایک ہی وقت پر اُس آواز کو سنیں 12:00 جیفرسن ویل ٹائم پر، جہاں ہم بطور ایک یونٹ اکھٹے ہو کر سنیں گے: 65-0822M مسیح اپنے خود کے کلام میں آشکارا ہے۔
بردار جوزف برینہم
پیغام سے پہلے پڑھنے کے لیے حوالہ جات:
خروج 4:10-12
یسعیاہ 53: 1-5
یرمیاہ 1: 4-9
ملاکی 4:5
مقدس لوقا 17:30
مقدس یوحنا 1:1 / 1:14 / 7:1-3 / 14:12 / 15:24 / 16:13
گلتیوں 1:8
دوسرا تیمتھیس 3:16-17
عبرانیوں 1: 1-3 / 4:12. / 13:8
دوسرا پطرس 1:20-21
مکاشفہ 1:1-3 / 10: 1-7 / 22:18-19
26-0614 اور یہ نہیں جانتا
Message: 65-0815 اور یہ نہیں جانتا
اے انتخاب شدہ،
مسیح کی نئی پیدایش، ایک مکاشفہ ہے۔ خُدا نے اس نئے بھید کو آپ پر آشکارا کردیا ہے، اور یہی نیا جنم ہے۔ اب آپ کیا کرینگے جب آپ اُس گروہ پورا اکھٹا کرلینگے؟ جہاں مکاشفہ بالکل کامل طور پر تال میں ہے،
خُدا اپنے عقابی گروہ کو کامل ہم آہنگی میں اکھٹا کررہا ہے، اور اپنا کلام دلہن پر آشکارا کررہا ہے۔
خُدا کا طریقہ ہے بادشاہ رکھنے کا، بالکل جیسے داؤد تھا، جو کہ ٹھیک تھا، کیونکہ اس سے ایک ہی ذہن ٹھیک درمیان میں ہوتا ہے۔ جیسا کہ ایک لیڈر جو کہ بطخوں کے گروہ کی رہنمائی کرتا ہے، اور بھی دیگر ہیں، پس آپ ایک ہی وقت پر دو یا تین کو نہیں لے سکتے۔ اگر ایسا ہوتا ہے، تو آپ سب کچھ گڑبڑ کردیتے ہیں، کیونکہ پھر آپ کسی نئے منصوبے کو اندر آنے دیتے ہیں۔
خُداوند، پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
واحد کام جو تمہیں کرنا ہے وہ میری آواز پہچاننا ہے؛ اور وہ جانتے ہیں، کیونکہ میری بھیڑیں میری آواز پہچانتی ہے۔
خُداوند، آج کے زمانہ کے لیے تیری کامل آواز کیا ہے؟
اگر یہ کہنے سے آپکو برا لگتا ہے، تو مجھے معاف کریں، لیکن، مجھے یہ محسوس ہوا ہے کہ ناراضگی پیدا ہوئی ہے، لیکن، میں آپکے لیے خُدا کی آواز ہوں۔
ہم یہ اپنے پورے دلوں سے ایمان رکھتے ہیں۔ خُداوند، ہم بالکل اسی طرح ہی محسوس کرتے ہیں۔
اُنہیں سائنسی طور پر کسی چیز کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں، یا کسی صدوقی یا فریسی، یا کسی اور سے، اسکے متعلق پوچھنے کی ضرورت نہیں۔ میں بولتا ہوں، اور وہ ایمان رکھتے ہیں، کیونکہ میری بھیڑیں میری آواز پہچانتی ہیں۔
ٹیپس پر جو آواز ہے وہ دلہن کے لیے کیا ہے؟
یہ لفظی شکل میں خُدا کی آواز ہے، کیونکہ یہ یسُوع مسیح کا مکمل مکاشفہ ہے، جس میں پرانا اور نیا عہد نامہ اکھٹا ہے۔ آمین۔ یہاں ہیں آپ۔
کیا ٹیپس آج بھی ضروری ہیں؟
میں یہ جانتا ہوں، اس زمین سے میرے جانے کے بعد، یہ ٹیپس اور کتابیں جیتی رہیں گی، اور آپ میں سے بہت سے نوجوان بچے، آنے والے دنوں میں یہ جانے گیں، کہ یہ بالکل ٹھیک سچائی ہے،…
خُداوند، ہم ایمان رکھتے ہیں کہ ٹیپس اور کتابیں تیری جیتی ہوئی، برائے راست منسٹری ہے جو تو نے دلہن کے لیے چھوڑی ہے۔
ٹیپس ہمارے سننے کے لیے سب سے ضروری آواز کیوں ہے؟
ہم سب سے زیادہ دھوکے کے زمانہ میں رہ رہیں ہیں۔ ”اگر ممکن ہو تو یہ برگزیدوں کو بھی گمرہ کرلے،“ کیونکہ اُنکے پاس مسح ہے، وہ جو چاہیں باقیوں کی طرح کرسکتے ہیں۔
”جو اس میں سے ایک بھی لفظ بڑھائے گا، یا اس میں گھٹائے گا۔“ پس آپکو کہیں نہ کہیں تو حتمی ہونا پڑیگا۔
لہذا، خُدا کا کلام ہمارے لیے حتمی ہونا چاہیے۔ تو نے ہم پر یہ آشکارا کیا ہے کہ خُدا کا کلام اور خُدا کی آواز ایک ہی ہیں۔ آواز خُدا کے خیالات ہیں جو کہ بولے گئے ہیں، بالکل جیسا تو نے نبیوں کے ساتھ کیا جب تو نے بائبل کو لکھا؛ لیکن آخری زمانہ میں، تو نے اپنے کلام، اپنی آواز کو محفوظ رکھا، اسے ریکارڈ کیا اور ٹیپ پر رکھ دیا۔ ٹیپس پر تیری فرمودہ آواز ہی دلہن کے لیے حتمی ہے۔
لوگوں کو نہیں لگتا کہ آواز کو چرچ میں چلانا ضروری ہے۔ اُنہیں اُنکے چرچز میں یہ سکھایا جاتا ہے کہ بردار برینہم نے کہیں نہیں کہا کہ ٹیپس کو چرچ میں چلانا چاہیے، اُنہیں صرف منسٹری کے مناد کو کلام قوٹ کرتے ہوئے سننا چاہیے۔
اگر چرچ آپکے لیے حتمی ہے، تو پھر کچھ فرق نہیں پڑتا کہ کوئی کیا کہتا ہے۔ کیونکہ وہ آپکے لیے حتمی ہے۔ اے خُدا، اسے گہرے طور پر جانے میں میری مدد کر! میرے لیے، یہ پوری چیز ہی غلط ہے۔ خُدا کا کلام حتمی ہے۔ جو کچھ بھی کلام فرماتا ہے، وہ درست ہے۔
وہ اُنکے انتظار میں تھا تاکہ وہ اُسے دعوت دیں۔ آج رات بھی وہ اس انتطار میں ہیں، کہ آپ اُسے دعوت دیں۔ غور کریں، جب شاگردوں نے میز کے چوگرد اُسکو رفاقت کے لیے دعوت دی تھی،
کیسے کوئی یہ کہہ سکتا ہے، دلیل دے سکتا ہے، یا بہانے بنا سکتا ہے، جو یہ دعوٰی کرتا ہے کہ وہ اس آخری وقت کے پیغام پر ایمان رکھتا ہے، لیکن اگر اُسے خُدا خود کی آواز سننے کا موقع ملے تو وہ اپنے چرچز میں ٹیپس کو چلانے نہیں دیگا؟ یہ وہ باتیں ہیں جو خُدا نے اپنے مسح شدہ نبی کے انسانی ہونٹوں کو وسیلہ بولی۔ واحد آواز جسے آگ کے ستون کے وسیلہ شںاخت کیا گیا ہے، جسکا ثبوت دلوں کے حال بتانے کے وسیلہ دیا گیا ہے، عجیب اور جلالی کاموں کے وسیلہ دیا گیا ہے، کہ اس نسل کے لیے یہی واحد خُدا کی آواز ہے۔
کیسے کوئی بہانا، یا دلیل دے سکتا ہے، یا پھر اُس میں وہ خُدا کی آواز کو سننے کی چاہت ہی نہیں جب بھی وہ اکھٹے ہوتے ہیں؟
خُداوند، ٹیپس پر تیری آواز کو مجھے کبھی بھی معمولی نہ سمجھنے دے۔ مجھے ہمیشہ دُنیا کو یہ اعلان کرنے دے کہ یہ وہ واحد آواز ہے جو انہیں سننی چاہیے۔ مجھے یہ تیری دلہن کے سامنے اعلان کرنے دے، سب کچھ جو اُسے چاہیے وہ ٹیپس پر تیری آواز ہے۔
ہمیں رفاقت کرنا پسند ہے۔ ہمیں تیرے متعلق بات کرنا اور تیرے کلام کا قوٹ دینا پسند ہے، لیکن کلام کے اُوپر کلام دینے سے بڑھ کر تو دلہن کے لیے اس سے زیادہ عظیم کچھ نہیں کرسکتا، جو کہ تیری آواز کا مکاشفہ ہے، اور پھر یہ پہچاننا یہ ہم کون ہیں، ہم تیری وفارای دلہن ہیں۔
میں کیسے مزید اور مزید آگے جاسکتا ہوں، اور اس عظیم مکاشفہ پر بات کرسکتا ہوں جو خُدا نے ہمیں دیا ہے۔ اسکا کوئی آخر نہیں ہے؛ لیکن سب سے عظیم کام جو میں کرسکتا ہوں وہ آپکو دعوت دینا ہے کہ آئیں اور خود سے دلہن کے حصہ کے ساتھ اس اتوار 12:00 جیفرسن ویل ٹائم پر خُدا کی آواز کو سنیں، جبکہ ہم سنتے ہیں: 65-0815 اور یہ نہیں جانتا۔
بردار جوزف برینہم
پڑھنے کے لیے حوالہ جات:
مکاشفہ 3: 14-19
کٌلسیوں 1: 9-20