26-0412 کیا خُدا کبھی اپنا ذہن اپنے کلام کے بارے میں بدلتا ہے؟

Message: 65-0418E کیا خُدا کبھی اپنا ذہن اپنے کلام کے بارے میں بدلتا ہے؟

PDF

BranhamTabernacle.org

اے جی اُٹھے ہوئے لوگوں،

اس ایسٹر کے ہفتے میں ہمارے عقابی دلوں کو کس قدر خوشی ملی ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ، اُسکی حضوری عظیم اور عظیم تر ہی ہوتی جارہی تھی۔ عشائے ربانی، تدفین، کاملیت، اور پھر وہ عظیم اختتام جسکے لیے اُس نے ہمیں تعمیر ہے جو کہ: یہ سورج کا طلوع ہونا تھا…جلال ہو، وہ جی اُٹھا ہے اور ہم میں سے ہر ایک میں جی رہا ہے۔ وہ اپنے کلام کو ہم میں سے ہر ایک میں اس طرح آشکارا کررہا تھا جیسے اُس نے پہلے کبھی نہ کیا ہو۔ پس مسح نے ہمارے دلوں کو بھر دیا، آسمان اُسکی حضوری سے بھرا ہوا تھا؛ اور ایسا لگ رہا تھا جیسے ریپچر ہونے والا ہے۔

اُس نے ہمیں بتایا کہ 2000 سال پہلے کیا واقعہ ہوا تھا، اور پھر 2026 میں کیا واقعہ ہورہا ہے۔ یسُوع خُدا کی گندم کا پہلا دانہ تھا جو مردوں میں سے جی اُٹھا تھا۔ وہ خُدا کی جلانے والی قدرت سے جی اُٹھا تھا۔ خُدا نے اُسکی زندگی کو جلایا، اُسے مردوں میں سے زندہ کیا، اور وہ اُن لوگوں میں پہلا پھل تھا جو سو گئے تھے۔ وہ پہلا پولا تھا جو پک چکا تھا، خُدا کا وہ پولا جو خُدا کے حضور شکرانے کی یادگار کے طور پر ہلایا گیا، اس ایمان کے ساتھ کہ ہم میں سے باقی بھی آئیں گے۔ یہ ایک نشان تھا۔

پھر جو کچھ آج ہوا ہے اُس نے ہم پر ظاہر کردیا ہے۔ جیسے پینتیکوست کے دن اُس نے پولا ہلایا تھا جب آسمان سے ایک آواز آئی تھی جیسے زور کی آندھی کا سناٹا ہوتا ہے، اُسے لہرایا گیا۔ اُسے پھرسے لوگوں کے سامنے لہرایا گیا ہے کیونکہ اس نے لوقا 17:30 اور ملاکی 4 میں  اس کا وعدہ کیا تھا، جب ابن آدم ظاہر ہوگا تو دوبارہ لوگوں پر پولا ہلایا جائے گا۔

اب، ابن آدم کون ہے؟ ”ابتدا میں کلام تھا، اور کلام خُدا کے ساتھ تھا، اور کلام خُدا تھا۔ اور کلام مجسم ہوا، اور ہمارے درمیان رہا۔“ اور ہماری ساری تعلیم، خُدا کے کلام کے ثبوت کے ساتھ ہے؛ اور خُدا کے کلام کے وسیلے، نشانات کے وسیلے، اور معجزات کے وسیلہ ہے، ہم آج دیکھ رہے ہیں، جو لوقا کی-کی کتاب میں ہم نے پڑھا ہے، جسکا حوالہ ہم نے ابھی دیکھا تھا، جو-جو کہ لوقا 17 باب اور 30 ویں آیت؛ اور ملاکی 4 ہے، اور انکے ساتھ ساتھ ہمارے پاس مختلف حوالہ جات موجود ہیں، کہ کلام دوبارہ لوگوں پر ہلایا گیا ہے، اور انسان کی مردہ رسومات مرچکی ہیں، اور ابن خُدا پاک رُوح کے بپتسمہ کے وسیلہ پھر سے ہمارے درمیان زندہ ہے، اور ہمیں زندگی دے رہا ہے۔

رُوحُ القُدس ہمارے اُوپر ہلاتا اور ہلاتا رہا، اور اپنے کلام کو مزید اور مزید آشکارا کرتا رہا… ڈائنامکس، میکانکس، اور جی اُٹھنے والی طاقت۔

پھر، جب اُس یہ بتایا، تو ایسا محسوس ہوا کہ اس سے بڑھ کر اور کچھ نہیں ہوسکتا:

اُس نے مجھے پردے کے پار دیکھنے دیا، اور میں نے آپ سبکو وہاں دیکھا…وہ سب جن سے تو نے پیار کیا، اور جن نے تجھے پیار کیا، وہ تجھے دے دیے گئے ہیں۔“ سمجھے؟ میں نے اُن سبکو وہاں ایسے ہی دیکھا تھا۔ یہ کیا تھا؟ یہ اُٹھائے جانے والی طاقت تھی۔

اُس نے ہمیں وہاں دیکھا!! وقت کے پردہ کے پار…ہم وہاں پر اُسکے ساتھ تھے؛ ہمارے تمام پیارے جو ہم سے پہلے چلے گئے… تمام باپ، مائیں، بچے۔ ہم وہاں پر اُنکے ساتھ تھے اور وہ سب بھی جن سے ہم کبھی ملے نہیں: موسٰی، پطرس، پولوس…ہم سب وہاں اکھٹے تھے۔

پھر، جس طرح سے وہ پیارا پاک رُوحُ ہے، وہ اُنکا بھولنا نہیں چاہتا تھا جو بیمار ہیں، پریشان ہیں اور ہارے ہوئے ہیں، اسی لیے اُس نے دوبارہ سے اپنے آپکو ہمارے اُوپر ہلایا تاکہ ہم میں سے ہر ایک شفایاب ہوجائے اور جس کسی چیز کی بھی ہمیں ضرورت ہے۔

یہ وہ لوگ ہیں، جو بادشاہی کے باشندے ہیں، اور جلانے والی قوت کے حقدار ہیں، اور خُداوند، اُس نے انہیں، اسی گھڑی جلادیا ہے۔ اور ہونے دے رُوح عقاب سے عقاب پر جائے، اور کلام سے کلام پر جائے، یہاں تک کہ یسُوع مسیح کی معموری ان تمام بدنوں میں، جسمانی اور رُوحانی طور پر ظاہر ہوجائے، اور جیسے ہی ہم اپنے ہاتھ ایک دوسرے پر رکھتے ہیں، انکی ہر ضرورت پوری پوجائے۔ یسُوع مسیح کے نام میں۔

وہ کلام، وہ آواز۔ ہر ایک چیز جسکی ہمیں ضرورت ہے جو ٹیپس پر موجود ہے، دلہن۔ خُدا اپنے کلام کے متعلق اپنا ذہن نہیں بدلتا۔ ایک بھی نقطے اور شوشے کو بدلا نہیں جاسکتا، اس لیے اُس نے راستہ بنایا تاکہ اُسکی دلہن خود اپنے کانوں سے ٹھیک وہی سن سکے جو وہ اُسے بتانا چاہتا تھا۔

خُدا نے اپنی دلہن سے بات کرکے ہر ایک چیز کو آشکارا کردیا ہے۔ اسے ریکارڈ کیا جاچکا ہے۔ دلہن کو ضرور ہی دلہے کے پاس آنا ہے؛ یہی اُسکا کامل مہیاہ کردہ راستہ ہے جو آج کے زمانہ میں فراہم کیا گیا ہے۔ یہ خُداوند یوں فرماتا ہے۔

کیا خُدا اپنے کلام کے متعلق کبھی اپنا ذہن بدلتا ہے؟ نہیں۔ اُسکے پاس کامل مرضی اور چھوٹ دینے والی مرضی بھی موجود ہے۔  پس دلہن کو اُسکی کامل مرضی میں ہونا چاہیے۔ اور خود خُدا کی آواز کو براہ راست خُدا کے وسیلہ سننے سے بڑھ  کر کامل مرضی، یا کامل جگہ نہیں ہوسکتی۔

آپ میں سے ہر ایک کو اس اتوار 12:00 بجے، جیفرسن ویل ٹائم پر دعوت دیتا ہوں، تاکہ خُدا کی آواز جو خالص کلام کو لاتا ہوا سن سکیں۔ کچھ سوچنے سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے، پس بیٹھ جائیں اور کلام کی ہر ایک بات پر آمین کہیں… پریس پلے کے علاوہ، اور کوئی دوسری جگہ نہیں ہے۔

بردار جوزف برینہم

پیغام: 65-0418E- کیا خُدا اپنے کلام کے متعلق کبھی اپنا ذہن بدلتا ہے؟

ہم پیراگراف 61 سے آغاز کرینگے۔

کلام سے پہلے پڑھنے کے لیے حوالہ جات:

Exodus 19th chapter
Numbers 22:31
St. Matthew 28:19
Luke 17:30
Revelation 17th chapter