اے ابدی زندگی کی دلہن،
وہ کس کی آواز ہے جو ٹیپس پر ہم سے بات کررہی ہے؟
ہم اس سوال کا جواب صرف خُدا کی طرف سے مکاشفہ کے وسیلہ ہی جان سکتے ہیں۔ صرف اُسکی پہلے سے چُنی ہوئی دلہن کے پاس ہی اسکا مکاشفہ ہوگا۔ اسی لیے، ہمیں اُسکے کلام کی تلاش کرنی چاہیے تاکہ ہم یہ سمجھ سکیں جبکہ وہ بتاتا ہے کہ وہ کون ہے: وہ جو کہ اپنے کلام کا واحد ترجمان ہے۔ پس سات مہروں کو کون کھول کر اُنہیں آشکارا کریگا؟ بائبل کے تمام پوشدہ بھیدوں کو کون آشکارا کریگا؟ کون اُسکی دلہن کو پکارے گا اور اُسکی رہنمائی کریگا؟ حتمی آواز کس کے پاس ہوگی؟
کلام کے مطابق، یہ خود، ملکِ صدق کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے۔ یہ وہ آدمی ہے جو بے باپ اور بے ماں ہے، جسکا نہ کوئی شروع ہے اور نہ ہی کوئی آخر ہے۔ خُدا، جس نے جسم میں آکر گوشت کھایا اور روٹی کھائی، اور مکھن دودھ پیا، اور ابرہام سے بات کی۔ وہ ایک شخصیت کے حامل ایک انسان تھا، جو انسانی جسم میں رہ رہا تھا۔
بالکل وہی کلام فرماتا ہے کہ یہی ملکِ صدق، یہی انسان، یہی شخصیت، ایک بار پھر سے انسانی جسم میں دوبارہ رہ کر خود کو آشکارا کریگا بالکل جیسا اُس نے ابرہام کے ساتھ کیا، اور پھر دوبارہ سے یسُوع مسیح کے ساتھ؛ لیکن آج، اپنے ساتویں فرشتہ پیامبر میں جو کہ مکاشفہ 10:7 ہے۔
اُسکی رُوح اس زمینی ٹیبرنیکل کو استعمال کریگی تا کہ وہ اپنی دلہن سے بات کرکے خود کو اُس پر ظاہر کرسکے۔ خُدا خود انسانی جسم میں رہ کر جی رہا ہے اور بات کررہا ہے۔ اُسکا پہلا پوری طرح سے بحال شدہ بیج اب پوری طرح پک چکا ہے۔ خُدا کا مکمل منصوبہ اب منزل پرپہنچ چکا ہے؛ کیونکہ خُدا اور وہ آدمی ایک ہی تھے۔ خُدا ہونٹ سے لے کر کانوں تک دلہن سے بات کررہا تھا بالکل جیسا اُس نے ابرہام کے ساتھ کیا۔
وہ اندر آیا اور اُس میں، یعنی ملکِ صدق شخصیت میں رہا۔ لیکن پھر، اسکے بعد، ہم نے ملکِ صدق کا ذکر کبھی نہیں سنا، کیونکہ وہ یسُوع مسیح بن گیا۔ ملکِ صدق کاہن تھا، لیکن وہ یسُوع مسیح بن گیا۔ اب، آپ اُسے چھوڑ آئے ہیں۔ کیونکہ، اُس شکل میں، وہ سب چیزوں کا علم رکھتا تھا، لیکن ابھی تک آپ اُس حالت کو جاننے کے قابل نہیں ہوپائیں ہیں۔
ابھی تک…!! تو پھر ہم کون ہیں؟
ہماری آنکھیں، ہمارا قدوقامت، جو کچھ بھی ہم ہیں، ہم ابتدا میں اُسکی سوچ میں تھے۔ اس سے پہلے کوئی فرشتہ تھا، کوئی ستارہ تھا، کوئی کروبی تھا، یا کچھ تھا۔ اُس نے سوچا، اُس نے بولا، اور ہم یہاں ہیں۔
یہ لامحدود ہے۔ ہم اسے ہم ذہنوں سے نہیں سوچ سکتے، لیکن یہ خُدا ہے۔ خُدا، جو کہ لامحدود ہے!
کیونکہ ابتدا میں ہم اُس میں تھے، اس زمین پر فانی زندگی ختم ہونے کے بعد ہمارے ساتھ کیا واقعہ ہوگا؟
اور، پھر جب اُس پر سے گوشت پوست کے بدن کا لبادہ اُتارا جاتا ہے، تو اُس کے لیے ایک قدرتی بدن ہوتا ہے، جو کہ تھیوفنی ہے، ایک ایسا بدن جو ہاتھوں سے نہیں بنا، نہ ہی کسی عورت نے جنم دیا ہے، ہم اُس میں چلے جاتے ہیں۔ پھر وہ بدن واپس آتا ہے اور جلالی بدن کو اُٹھا لیتا ہے۔
اُسکی دلہن کے پاس ذخیرہ میں کیا ہی عمدہ چیزیں رکھی ہوئی ہیں۔ دیکھیں اب کیا چیز واقعہ ہورہی ہے جبکہ وہ اپنا کلام اس طرح سے آشکارا کررہا ہے جیسے اُس نے پہلے کبھی نہ کیا ہو۔ اُسکی دلہن کے لیے لیو لیٹر پر بات کرنا یہ بالکل ویسا ہی ہے! کیا ہی دن ہے جس میں ہم جی رہے ہیں۔
ہمارے پاس مکاشفہ ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ملکِ صدق کون ہے، یہ خُدا کی آواز ہے، جو کہ ٹیپس کے وسیلہ بات کررہی ہے۔ ہمارے پاس مکاشفہ ہے کہ یہ خُدا کی مہیاہ کردہ اور آج کے لیے کامل مرضی ہے۔ لہذا، ہم جانتے ہیں کہ وہ کون ہے اور یہ کہ ہم اُسکی دلہن ہیں۔
یہ مکاشفہ ہر روز ہی عظیم اور عظیم تر ہوتا جارہا ہے۔ ہر گزرتا دن ہی مزید خوشی، اور مزید مکاشفہ کو لارہا ہے۔ دلہن اپنے آپکو اُسکی آواز کی حضوری میں بیٹھنے کے وسیلہ تیار کررہی ہے، جبکہ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہم کون ہیں، اور یہ کہ وہ ہم سے کتنا پیار کرتا ہے، اور کیسے وہ ہمارے ساتھ ہونے کے لیے انتظار نہیں کرسکتا!!!
آئیں، اور اپنے آپکو 12:00 بجے جیفرسن ویل ٹائم پر تیار کریں، اُس چیز کے لیے جو واقعہ ہونے جارہی ہے، جبکہ ہم ملکِ صدق کی آواز کو سنتے ہیں۔
بردار جوزف برینہم
پیغام: 65-0221E ”یہ ملکِ صدق کون ہے؟“
پڑھنے کے لیے حوالہ جات:
Genesis 18th Chapter
Exodus 33:12-23
St. John 1:1
Romans 8:1
2 Corinthians 5:1
1 Thessalonians 4:13-18
First Timothy 3:16 / 6:15
Hebrews 7:1-3 /13:8
Revelation 10:1-7 / 21:16