اے کلام کی کنواری دلہن،
میں آج صبح یہاں بیٹھے ہوئے ایک عظیم مسح کو محسوس کررہا ہوں جبکہ میں اس میسج کو سن رہا ہوں، پڑھ رہا ہوں اور مطالعہ کررہا ہوں جسے ہم اتوار کو سننے جارہے ہیں۔ میرا تمام وجود ہی مسح سے بھرا ہوا ہے۔ اور میرا دل یہ جانتے ہوئے خوشی سے اُچھل رہا ہے، کہ ہم اسی مسح میں پوری دُنیا کے چوگرد اکھٹا ہونگے۔ ہم ایک ہی وقت پر شادمانی کرینگے، خُداوند کی تعریف کرینگے، جبکہ وہ ہم سے ہر ایک سے بات کرکے اپنے کلام کو آشکارا کرتا ہے۔
یہ مسح اتنا عظیم ہوگا کہ ہم سب چلائے گیں اور شور مچائے گیں، ”ہلیلویاہ، آمین، خُداوند کے نام کی تعریف ہو“ اور یہ سب پوری دُنیا کے چوگرد ایک ہی وقت پر ہوگا، جبکہ ہم آسمان کو ہمارے نعروں اور پرستش سے بھردینگے۔
کیا واقعہ ہونے جارہا ہے؟ خُدا اپنی دلہن کو متحد کرکے اُس سے بات کریگا۔ ہم ایک ذہن کے ساتھ اور ایک ہی ایمان کے ساتھ ایک یونٹ ہونگے، جبکہ وہ خود کو ہمارے درمیان آشکارا اور مجسم کرتا ہے۔
اس سے بڑھ کر کوئی جگہ نہیں ہے جہاں آپ جاسکتے ہیں، اس سے بڑھ کر کوئی آواز نہیں ہے جو آپ سن سکتے ہیں؛ ٹیپس پر خُدا کی آواز کو براہ راست سننے سے بڑھ کر کوئی اور مسح نہیں ہے۔
خُدا نے ابتدا ہی سے اپنے کلام کی نگرانی کی ہے اور اپنے تمام بچوں کو ایک ایسی جگہ مہیاہ کی ہے جہاں وہ جا کر اُسے بات کرتا سن سکتے ہیں جہاں وہ اپنے کلام کا خود ترجمان ہے۔ یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں کوئی اندازے لگانا، کوئی اُمید لگانا، یا کچھ سوچنا نہیں ہے؛ یہ خُداوند یوں فرماتا ہے کو سننے کے لیے خُدا کی مہیاہ کردہ جگہ ہے۔
جب یہ آپ پر آشکارا ہوجاتا ہے، تو پھر یہ ایک عظیم روشنی کی مانند ہوتا ہے جسے آپکے دل اور آپکی رُوح میں جلا دیا جاتا ہے…اور آپ چلاتے ہیں، ”یہی ہے وہ۔ میں اسے دیکھ سکتا ہوں۔ میں کلام کے ساتھ ایک ہوں۔ میں ہی کلام ہوں۔ میں ہی دلہن ہوں۔ میں پہنچ چکا ہوں۔“
یہ واقعہ ہورہا ہے، اور وہ اسے جانتے تک نہیں ہیں۔ سمجھے، یہی کچھ ہے۔ دیکھیں؟ جی ہاں، جناب۔ ”کیونکہ جہاں گوشت ہوتا ہے وہی عقاب اکھٹے ہوتے ہیں،“ یہ بالکل دُنیا کی طرح پُریقین ہے۔ سمجھے؟ یہی کچھ وہ کہتی ہے۔ گوشت کہاں ہے؟ یہ کلام ہے۔ اور وہی کلام ہے، گوشت، یعنی وہ مسیح ہے! ”مسیح آپکے اندر ہے،“ جو کہ کل، آج، بلکہ ابد تک یکساں ہے۔ یہ کتنی ہی سچائی ہے!
جبکہ ہم کلام کو سننے کے لیے اکھٹے ہوتے ہیں، تو ہماری تمام فکریں، ہماری تمام پریشانیاں، ہماری تمام مصیبتیں، بالکل ختم ہوجاتی ہیں۔ ہم خوشی مناتے ہیں جبکہ ہمیں یہ احساس ہوگیا کہ ہمیں کسی چیز کے متعلق فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے؛ ہم ہی اُسکی دلہن ہیں۔ وہ صرف ہمارے ساتھ ہی نہیں ہے، بلکہ ہمارے اندر بھی ہے۔ ہم ہی کلام کی بیج دلہن ہیں۔ ہر ایک چیز بالکل ٹھیک ہے۔ اُسکا وقت کامل ہے۔ ہم کامل ہیں۔
ہم انتے مطمئن ہیں اور یہ کہہ کر نہایت شکرگزار ہیں کہ ہم اُسکے کلام سے پیدا ہوئی کنواری ہیں جو مجسم ہوئی ہے؛ یسُوع مسیح کل، آج، بلکہ ابد تک یکساں ہے، جو ہمارے درمیان جی رہا ہے اور سکونت کررہا ہے۔ ہلیلویاہ!
ہم کلام کی ایک بھی بات پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔ ہمیں ضرور ہی خُدا کی آواز کو سننا چاہیے جو کہ ٹیپس پر موجود ہے۔
کیا آپ نے کبھی عقاب کو سمجھوتہ کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ نہیں، جناب۔ اُسکے اندر کوئی سمجھوتہ موجود نہیں ہے۔ اور نہ ہی ایک حقیقی کرسچن سمجھوتہ کرتا ہے۔ وہ نرم نہیں ہوتا۔ جب تک وہ تلاش نہیں کرلے وہ شکار کرتا رہتا ہے۔ آمین۔ جی ہاں، جناب۔ وہ اپنے گوشت کو تلاش کرلیتا ہے۔ کیونکہ وہ تازہ من کو چاہتا ہے۔ وہ نیچے اُتر کر تب تک کھودیگا جب تک وہ اسے مل نہ جائے۔ وہ مزید اور مزید اُوپر اُڑان بھریگا۔ اگر اس وادی میں کچھ موجود نہیں ہے، تو وہ تھوڑا اور اُوپر جائے گا۔ جتنا اُوپر آپ جائیں گے اُتنا بہتر آپ دیکھ پائیں گے۔ پس تو وقت آچکا ہے کہ اس زمانے کے عقاب اُونچا اُڑنا شروع کریں، اور خُدا کے وعدوں کی طرف نظر کریں، اور نہ کہ گدھ کے کھانے پر جئے جسے کئی سال پہلے ہی مار دیا گیا تھا؛ اس سے باہر نکل آئیں۔
دلہن، تیار ہوجا، ہم اُس تازہ من کو کھانے جارہے ہیں، اور سب سے عظیم حضوری، جو کہ موجود ہے اُس میں بیٹھنے جارہے ہیں، اس اتوار 12:00 بجے جیفرسن ویل ٹائم پر، جبکہ ہم سنتے ہیں:65-0218 چھلکا بیج کے ساتھ وارث نہ ہوگا۔
ہم پوری دُنیا کے چوگرد دلہن کو دعوت دیتے ہیں کہ ہمارے ساتھ جُڑیں جبکہ ہم اس زمانہ میں خُدا کے کامل مہیاہ کردہ راستے میں سے کھاتے ہیں۔ یہی وہ واحد جگہ ہے جہاں دلہن کلام کی ہر ایک بات پر آمین کہہ سکتی ہے۔ جہاں رُوحُ القُدس کا سپرئم مسح اپنی دلہن سے پریس پلے کرنے کے وسیلہ بات کرکے اور اُسکے کلام کو سن کر اور قبول کرنے کے ذریعے اُسے کامل کرتا ہے۔
بردار جوزف برینہم
Scriptures:
St. Matthew 24:24
St. Luke 17:30
St John 5:24 / 14:12
Romans 8:1
Galatians 4: 27-31
Hebrews 13:8
1 John 5:7
Revelation 10
Malachi 4