25-1228 اپنے دن اور اُس کے پیغام کو پہچاننا

Message: 64-0726M اپنے دن اور اُس کے پیغام کو پہچاننا

PDF

BranhamTabernacle.org

اے الگ کی گئی دلہن،

آج، چرچ اپنے نبی کو بھول چکا ہے۔ اُنہیں اسکی مزید ضرورت نہیں کہ وہ انکے چرچز میں منادی کرے۔ وہ دعوی کرتے ہیں کہ کلام سنانے کے لیے اور اُسے قوٹ کرنے کے لیے اور کلام کی ترجمانی کے لیے اُنکے پاس اُنکے پاسٹرز موجود ہیں۔ پس کہتے ہیں چرچز میں کلام سننا ٹیپس پر خُدا کی آواز سننے سے زیادہ ضروری ہے۔

لیکن خُدا جانتا تھا کہ اُسکے پاس اُسکا نبی ہونا ضرور ہی ہے؛ ٹھیک اسی طریقے سے ہی اُس نے ہمیشہ دلہن کو باہر بلایا ہے اور اُسکی رہنمائی کی ہے۔ اُس نے اُپنی دو دھاری تلوار سے ہمیں باقی قوموں سے کاٹ ڈالا ہے، جو کہ اُسکا رُوحُ القُدس ہے، اُسکی آواز جو اُسکے نبی کے وسیلہ بولی گئی۔

اُس نے ہمیں اس آواز سے الگ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ٹیپ پر ریکارڈ اور رکھا گیا ہے۔ مکاشفہ کے وسیلہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کس قدر کلام کامل ہے! دلہن تب تک پک نہیں سکتی جب تک کہ بیٹا اسے نہ پکائے۔

اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ آپ کتنا کلام سناتے ہیں، یا جو کچھ بھی آپ کرتے ہیں، یہ پک نہیں سکتا، یہ ظاہر نہیں ہوسکتا، یہ شناخت شدہ نہیں ہوسکتا؛ سوائے اُسکے جس نے کہا، ”میں دُنیا کا نور ہوں،“ جو کہ کلام ہے۔

کلام نے ہمیں بتایا کہ رُوحُ القُدس خود آئے گا اور ہمیں پکائے گا، اور شناخت کریگا، اور ثابت کرکے خود کو ظاہر کریگا۔ پس شام کی روشنی آچکی ہے۔ خُدا جسم میں مجسم ہوگیا ہے تا کہ دلہن کو بلا سکے۔

وہ خود ہی ہے جس نے آپکو رُوحُ القُدس کے وسیلہ، یعنی اپنے کلام، اور اپنی آواز کے وسیلہ بلایا ہے۔ اُس نے خود ہی آپکو چُنا ہے ۔ وہ خود ہی آپکو سیکھاتا ہے۔ وہی خود آپکی رہنمائی بھی کررہا ہے۔ کس کے وسیلہ؟ اپنے رُوحُ القُدس کے وسیلہ، اُسکی آواز جو کہ آپ سے برائے راست بات کررہی ہے۔

لیکن اس زمانہ میں اُنکے لیے یہ بہت ہی پرانے طرز کا فیشن ہے۔ وہ ٹیپس کو چرچز میں چلانے سے آگے گزر چکے ہیں۔ وہ اسے پہچان نہیں سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس حالت میں مبتلا ہیں۔ لیکن آپکے لیے، یہ خُدا کا مہیاہ کردہ راستہ ثابت ہوا ہے، یہ آپکے لیے خُداوند یوں فرماتا ہے۔

پس ضروری ہے ایک-ایک-ایک قوت آئے، یعنی رُوحُ القُدس آئے، تا کہ پھل کو پکایا جائے، اور ثابت کیا جائے، تا کہ وہ ثابت کرے، یا ظاہر کرے یا وہ سب کچھ کرے جو اُس نے اس زمانے کے لیے پیشنگوئی کی تھی۔ شام کی روشنی یہ کرکے دکھائے گی۔ کیا وقت ہے!

ہم خُدا کے کلام کی کامل دلہن ہیں جو اُسکے نبی نے رویا میں دیکھی تھی۔ ہم ہی وہ ہیں جنکے لیے اُس نے نبی کو بھیجا تاکہ کلام کے وسیلہ ہمیں باہر نکالا جائے، اور اب ہمارے درمیان ایک بیداری چل رہی ہے، کیونکہ ہم اب جان گئے ہیں کہ ہم کون ہیں۔

وہاں، حیات تازہ ہوگی، یہ وہی لفظ ہے جو عام طور پر استعمال ہوتا ہے، میں نے اسکا مطالعہ کیا ہے، اس کا مطلب ہے، ”بیداری۔“ ”وہ دو روز کے بعد ہم کو حیات تازہ بخشے گا۔“ ایسا ہوگا، ”اُس نے ہمیں پراگندہ کردیا تھا، اور ہمیں اندھا کردیا تھا، اور ہمیں پھاڑ دیا تھا، لیکن تیسرے دن وہ ہمیں دوبارہ حیات تازہ بخشے گا۔“

باپ نے دلہن پر ںظر رکھنے کے لیے نبی کو بھیجا تاکہ وہ راستے سے نہ ہٹ جائے۔ یاد رکھیں، یہی وہ رویا تھی!

دلہن اسی حالت میں دکھائی گئی تھی، جس حالت میں وہ دلہن شروع میں دکھائی گئی تھی۔ لیکن میں اُسکے قدم بھٹکتے ہوئے دیکھ رہا تھا، اور اُسے واپس کھینچنے کی کوشش کررہا تھا۔

”وہ“ آج کیسے دوبارہ اُسے کھینچ سکتا ہے؟ ”وہ،“، آدمی، یہاں زمین پر نہیں ہے۔ بلکہ اپنے کلام سے! اور اس زمانہ کے لیے واحد شاخت شدہ کلام کیا ہے؟ وہ ٹیپس پر خُدا کی آواز ہے۔

منادوں کو کلام سنانے کے لیے بلایا گیا ہے تا صرف وہی قوٹ کریں جو نبی نے فرمایا۔ پس خود نبی کے مطابق، اُنہیں مزید اور کچھ بھی کہنا نہیں چاہیے۔

حقیقی طور پر، اُنہیں کلام سیکھانے اور اسکی منادی کرنے کے لیے بلایا گیا ہے۔ لیکن صرف ایک ہی آواز ہے جسے خُداوند یوں فرماتا ہے ہونے کے لیے خود خُدا کی طرف سے شناخت شدہ ٹھہرایا گیا ہے۔

پس میں یہ، یسُوع مسیح کے نام میں کہتا ہوں: اس میں ایک بھی چیز کو نہ بڑھائیں، اور نہ ہی گھٹائیں، اس میں اپنے خیالات مت ڈالیں، آپ صرف وہی بولیں جو ٹیپس پر کہا گیا ہے، آپ صرف وہی کریں جو خُداوند نے آپکو کرنے کا حکم دیا ہے؛ اس میں اضافہ مت کریں!

اگر آپ ہر بات پر”آمین“ کہتے ہیں جو آپکا پاسٹر یا آپکا مناد فرماتا ہے، تو آپ کھو چکے ہیں۔ لیکن اگر آپ ہر اُس بات پر ”آمین“ کہتے ہیں جو خُدا نے اپنے نبی کے وسیلہ ٹیپس پر بولی ہیں، تو پھر آپ دلہن ہیں اور آپکے پاس ابدی زندگی ہے۔

خُدا کا نبی ہی وہ شخص ہے جسکے وسیلہ خُدا نے بولنے کے لیے چُنا۔ یہ خُدا کا چُناؤ تھا کہ اسے اُسکا کلام سنانے کے لیے استعمال کرے اور اُسے ٹیپ پر رکھے تاکہ دلہن کے پاس ہمیشہ ہی سننے کے لیے خُداوند یوں فرماتا ہے موجود ہو۔

وہ نہیں چاہتا کہ اُسکی دلہن دوسرے آدمیوں کی باتوں پر، یا اُنکے کلام کی ترجمانی پر انحصار کرے۔ وہ چاہتا ہے کہ اُسکی دلہن میرے ہونٹوں سے اپنے کانوں تک سنے۔ وہ نہیں چاہتا کہ اُسکی دلہن سوائے اُسکے کسی اور پر انحصار کرے۔

جب ہم صبح میں اُٹھتے ہیں، تو ہمیں پسند ہے جب وہ ہمیں بتایا ہے، ”صبح بخیر دوستوں۔ میں آج تم سے بات کرونگا اور تمہیں بتاؤنگا کہ میں تم سے کتنا پیار کرتا ہوں اور کیسے تم اور میں ایک ہی ہیں۔ میرے پاس بہت ہیں جنہیں میں ابدی زندگی دونگا، لیکن تو ہی وہ دلہن ہے جسے میں نے خود اپنے ہاتھوں سے چُنا ہے۔ صرف تجھے ہی میں نے بنائے عالم سے پیشتر مکاشفہ دیا ہے۔

باقی بھی بہت ہیں جو مجھے سننا پسند کرتے ہیں، لیکن میری دلہن ہونے کے لیے میں نے تجھے چُنا ہے۔ کیونکہ تو نے مجھے پہچان لیا اور تو میرے کلام سے ساتھ ٹھہری رہی ہے۔ تو نے سمجھوتہ نہیں کیا، تو نے اپنے چوگرد چھیڑ چھاڑ نہیں کی، بلکہ تو میرے کلام کے ساتھ سچی ٹھہری رہی۔

وقت قریب آپہنچا ہے۔ میں تیرے لیے بہت جلد آرہا ہوں۔ پہلے، تو اُنہیں دیکھے گی جو اس وقت میرے ساتھ ہیں۔ اوہ، وہ کس قدر تیرے ساتھ ہونے کے منتظر ہیں۔ پس اے چھوٹو فکر مند نہ ہو، ہر ایک چیز بالکل ٹھیک اپنے وقت پر ہے، بس آگے بڑتا جا۔“

پس انجیل کا خادم ہوتے ہوئے، میں دلہن کے جانے کے سوا اور کسی چیز کو بھی دیکھ نہیں سکتا ہوں۔

برادر جوزف برینہم

پیغام: 64-0726M”اپنے دن اور اُس کے پیغام کو پہچاننا“
وقت: 12:00 بجے جیفرسن ویل ٹائم پر

Scriptures to read before hearing the Message:
Hosea: Chapter 6
Ezekiel: Chapter 37
Malachi: 3:1 / 4:5-6
II Timothy: 3:1-9
Revelation: Chapter 11