اے برینہم ٹیرنیکل،
پوری دُنیا کے چوگرد یسُوع مسیح کی دلہن کو سلام، جو کہ یہ ایمان رکھتی ہے کہ برینہم ٹیبرنیکل، وائس آف گاڈ، اُنکا ہوم چرچ ہے جہاں اُنکو پوشدہ من کے ساتھ رُوحانی طور پر کھلایا جاتا ہے جو کہ صرف مسیح کی دلہن کے لیے ذخیرہ اور محفوظ کیا گیا ہے۔
یہ میرا ہوم بیس ہے؛ یہ میرا ہیڈ کواٹر ہے؛ یہی وہ جگہ جہاں ہم قائم ہیں۔ اب، اسے ذہن میں پکڑے رکھیں کہ کچھ فرق نہیں پڑتا کہ کیا واقعہ ہوتا ہے۔ اب، اگر آپ کے پاس حکمت ہے، تو آپ کسی چیز کو پکڑیں گے۔ کچھ فرق نہیں پڑتا کہ کیا ہوتا ہے، یہ ٹھیک، آپکا ہیڈ کواٹر ہے!
بہت سے بیلورز اسے ہمیشہ غلط سمجھتے ہیں اور نبی نے جو کہا ہے اُسکی ترجمانی کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن وہ دلہن کو بالکل ٹھیک طور پر بتا رہا ہے، ”اگر آپکے پاس حکمت ہے، تو آپ کسی چیز کو پکڑیں گے، کہ ٹھیک یہاں، یہ ہمارا ہیڈ کواٹر!“
اُسکا اس بات سے کیا مطلب ہے؟
جب برادر برینہم یہاں تھے، تو بہت سے لوگوں نے اسے غلط سمجھ لیا تھا اور اُنہوں نے سوچا کہ دلہن کو ایری زونا جاکر اسکی پیروی کرنی ہوگی، تا کہ ہم ریپچر کا حصہ بن سکیں۔ برادر برینہم نے اُنکو بالکل سادگی سے جواب دیا: ٹھیک یہاں ٹھہرے رہو، یہ میری جگہ ہے۔
ایک بڑے گروہ نے اپنا رُخ اُس جانب کرلیا، اور وہ یہاں اور وہاں جانا چاہتے تھے، پھر میں نے اُنہیں بتایا کہ ٹھیک یہاں ٹھہرے رہو۔ یہاں ٹھہرے رہو، ٹھیک یہاں ٹھہرے رہو؛ یہی وہ جگہ ہے۔
پورے امریکہ میں سے لوگوں نے ایری زونا جانا شروع کردیا، لیکن اُس نے بالکل سادگی اُنہیں بتایا: یہاں ٹھہرے رہو، یہی وہ جگہ ہے!
جیفرسن ویل میں ٹھہرے رہو؟ کیا اُس نے یہ فرمایا ہے!
میرا مکاشفہ یہ ہے، کہ یہ خُدا تھا، جو اپنے نبی کے وسیلہ بات کررہا تھا اور لوگوں کو بتارہا تھا، ”ٹیپس کے ساتھ ٹھہرے رہو۔“ یہی وہ جگہ ہے!
وہ بہت پریشان تھا اور اُس نے کہا کہ اُسکو لوگوں کے لیے کچھ تو کرنا تھا۔ اُسے کیا ہی کرنا چاہیے؟ اُسے اُنہیں کونسے چرچ بھیجنا چاہیے؟ اُنہیں کہاں پر جانا چاہیے؟ برادر برینہم نے کیا کہا کہ اُسے کیا کرنا چاہیے؟
پس اب، مجھے اُن بچوں کو یہاں لانا پڑا تا کہ وہ کچھ کھا سکیں۔ وہ وہاں ریگستان میں بھوکے ہیں۔
اُس نے یہ نہیں کہا کہ اُنہیں کسی مقامی چرچ جانے کی ضرورت ہے تا کہ وہ اُن چھوٹی ٹکیوں کو کھا سکیں۔ اُس نے کہا کہ وہ اُنہیں یہاں پر لانا چاہتا ہے تا کہ وہ کچھ کھا سکیں، ورنہ وہ بھوک سے مر جائیں گے۔
دوستوں، یہ میرا مکاشفہ ہے۔
اب، ایک بار پھر اسے غلط نہ سمجھیں، یا کچھ ایسا نہ کہیں جو اُس نے نہیں کہا، یہ کہہ کر، ”بردار برینہم چاہتا تھا کہ ہر ایک بیلور جیفرسن ویل میں آجائے تا کہ وہ دلہن کا حصہ بن سکے۔“ بردار برینہم جانتا تھا کہ تمام لوگ، اور پوری دُنیا میں سے ہر ایک بیلور، جیفرسن ویل میں آکر نہیں رہ سکتا۔ ایسا ہونا ناممکن تھا۔ تو پھر اُسکا کیا مطلب تھا؟ وہ مسیح کی دلہن کو ٹیپس کے چوگرد اکھٹا اور متحد کررہا تھا جو کہ دلہن کے لیے ریکارڈ اور ذخیرہ کی گئی تا کہ اس سے وہ کھا سکے۔
یہ میسج، یہ آواز، یہ آج کے لیے خُدا کا فرمودہ کلام ہے اور یہی یسُوع مسیح کی دلہن کو متحد اور کامل کریگی۔
عقاب گوشت سے ہی کھاتے ہیں۔ اب، بائبل میں عقاب کو، ایک نبی کہا جاتا ہے۔ ایک نبی عقاب ہوتا ہے۔ خُدا-خُدا اپنے آپکو ایک عقاب کہتا ہے، اور پھر ہم ”ننھے عقاب“ ہیں جو، جو-جو کہ بلیوز ہیں۔ آپ سمجھے؟ اور وہ گوشت کہاں ہے جس سے وہ کھا سکتے ہیں؟ وہ کلام ہے۔ جہاں کہیں بھی کلام ہے، تو پرندے کی حقیقی فطرت نظر آئے گی۔
آج خالص، شناخت شدہ، بغیر غلط فہمی کے، خُداوند یوں فرماتا ہے کلام کہاں پر ہے؟ واحد صرف ایک ہی جگہ ہے، اور وہ ٹیپس ہیں۔
میں مزید آگے اور آگے جاسکتا ہوں، میں قوٹ پر قوٹ دے سکتا ہوں، لیکن اس میسج اور برادر برینہم نے جو کچھ کہا ہے اُسے سمجنے کے لیے خُدا کی طرف سے مکاشفہ کی ضرورت ہے۔ ہمیں مکاشفہ کے وسیلہ لائنز کی درمیان کی باتوں کو پڑھنے کی ضرورت ہے، لیکن وہی کہیں جو اُس نے کہا ہے۔ کیونکہ یہی وہ خالص کلام ہے۔
یہ آج کے سوال اور جوابات ہیں جن پر میں ایمان رکھتا ہوں۔
آج، بہت سے مناد لوگوں سے یہ کہہ رہے ہیں کہ ہوم ٹیپ چرچ رکھنے سے ہم کلام سے باہر ہیں اور وہ جو بردار برینہم نے کرنے کے لیے کہا ہے۔ اُنہیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہمیں ضرور ہی وہاں جانا چاہیے جسے وہ چرچ کہتے اور مانتے ہیں۔
یقیناً بہت سے حقیقی، اور بردار برینہم کی طرف سے کئی قوٹ ہیں جہاں وہ بالکل سادہ طریقے سے بتاتا ہے۔
اب، آپ کسی اچھے فُل گاسپل چرچ جائیں اور آپکو ایک ہوم چرچ مل جائے گا۔
میں اس بات پر پورے دل سے ایمان رکھتا ہوں، کیونکہ ایسا اُس نے کہا ہے۔ لیکن میں ایمان رکھتا ہوں کہ ہم ہوم ٹیپ چرچ کرنے کے وسیلہ اس بات کو پورا کررہے ہیں۔ ہماری جگہ خُداوند کے لیے اہمیت نہیں رکھتی۔ کیونکہ وہ صرف ایک عمارت ہے۔ لیکن خُداوند کے لیے ہمارا فرض ہے کہ ہم اُسکے کلام کے ساتھ ٹھہرے رہیں، نہ کہ کسی جگہ یا پھر کسی عمارت کے ساتھ۔ ایک جگہ دلہن کو بچاتی یا کامل نہیں کرتی ہے، بلکہ کلام کرتا ہے۔
اگر میں ایک چرچ بلڈنگ میں جاؤں، اور وہ سب سے اہم چیز ہی بھول چکے ہیں: جو کہ پریس پلے کے وسیلہ خُدا کی آواز کو سننا ہے، اور اُنہوں نے اس چیز کو منادوں کے پیغامات سننے سے تبدیل کردیا ہے، تو کیا یہ چیز آپکو مکمل طور پر مطمئن اور آپکی رُوح کو بھر پائے گی؟ میرے بھائی اور بہن، شاید آپکی رُوح اس سے بھر جائے، لیکن دلہن کبھی بھی اس سے مطمئن نہیں ہوگی۔
مجھے یہاں مداخلت کرکے کہنے دیں کہ ہزاروں لوگ ہیں جنکے پاس جانے کے لیے کوئی بھی چرچ بلڈنگ موجود نہیں ہے۔ تو کیا وہ کھو چکے ہیں؟ اگر اُنکے پاس پاسٹر یا چرچ نہیں ہے، تو کیا اسکا مطلب یہ ہے کہ وہ دلہن نہیں ہوسکتے؟ اگر آپ چرچ بلڈنگ سے سو میل کی حدود میں رہتے ہیں، تو پھر کیا آپکو اُس چرچ جانے کی ضرورت ہے؟ لیکن اگر آپ اُس سے دور رہتے ہیں، تو آپکو جانے کی ضرورت نہیں ہے؟ میں اون لائن خادم کو تو سن لونگا، لیکن میں اون لائن ٹیپس کو نہیں سنو گا؟ کیا وہ جسمانی عمارت ہے جسکے متعلق نبی کہہ رہا ہے کہ وہ سب سے ضروری چیز ہے جہاں آپکو جانا چاہیے؟
پس نبی دلہن کو کہاں پر لانا چاہتا تھا؟
اگر آپ یہاں ٹیبرنیکل نہیں آسکتے، تو کسی بھی چرچ کو لیں؛ اور وہاں جائیں۔
پھر سے، اُسکی پہلی خواہش لوگوں کو کہاں پر بھیجنے کی تھی؟ وہ برینہم ٹیبرنیکل ہے، جو کہ کلام، یعنی ٹیپس ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جو خُدا نے اس آخری زمانہ میں دلہن کی لیے مہیاہ کی ہے، اور ہم اسے ہر روز اور ہر اتوار ہی کررہے ہیں۔
تو میں غلط فہمی میں نہیں ہوں۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ دلہن ہونے کے لیے آپکو برینہم ٹیرنیکل کے ساتھ ٹیپس سننے کی ضرورت ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ آپکو چرچ نہیں جانا چاہیے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ منادوں کو سن نہیں سکتے۔ اگر آپ اس پر ایمان رکھتے ہیں، تو پھر آپ کلام سے باہر ہیں۔ بلکہ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ ٹیپس پر خُدا کی آواز کو سننا سب سے ضروری آواز ہے جو کہ آپکو سننی چاہیے، اور میں ایمان رکھتا ہوں کہ ہر ایک پاسٹر کو اس آواز کو، یعنی ٹیپس کو، چرچز میں چلانا چاہیے۔ لیکن اُنہوں نے ٹیپ نہ چلانے کا ہر بہانہ تلاش کرلیا ہے۔ اگر آپکا چرچ ایسا ہے، تو پھر آپ کلام نہیں کھا رہے ہیں۔
یہ واضع ہے کہ وہ کیا نہیں کرنا چاہتا تھا اور جو لوگ کررہے تھے۔
اور پس آپ چرچ جائیں؛ گھر پر ٹھہرے نہ رہیں، مچھلیاں پکڑنے جائیں، شکار کے لیے جائیں، اور اتوار کو اس طرح کی چیزوں کو کریں۔
ہم یہ نہیں کررہے۔ ہم صرف اُس واحد چیز کے چوگرد اکھٹے ہورہے ہیں جو کہ دلہن کو متحد کریگی، وہ یہ میسج، وہ یہ آواز ہے۔
ایک بار پھر سے، میں چرچ جانے میں ایمان رکھتا ہوں۔ دُنیا کے چوگرد ایسے بہت سے چرچز ہیں جو اپنے پلپٹ پر سب سے پہلے ٹیپس کو رکھتے ہیں، خُداوند کی تعریف ہو۔ لیکن کیا میں یہ ایمان رکھتا ہوں کہ آپکو گھر پر ہی رہنا چاہیے یا تو پھر آپ دلہن نہیں ہیں؟ نہیں، نہیں، نہیں…میں نے کبھی اسکے متعلق سوچا نہیں ہے، نہ ہی اس پر ایمان رکھا ہے۔ میں بس یہی چاہتا ہوں کہ کچھ فرق نہیں پڑتا کہ آپ کہاں ہے یا آپ کونسے چرچ جاتے ہیں آپ فقط پریس پلے کریں۔
اگر آپکے پاس مکاشفہ نہیں ہے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے، تو پھر آپ بالکل یہی کہیں گے، ”مجھے بردار برینہم کو سننے کی ضرورت نہیں ہے یا ہر بات سے متفق ہونے کی ضرورت نہیں ہے جو وہ کہتا ہے۔ بلکہ اُس نے خود کہا، اور بھی بہت سے خُدا کے بلائے گے آدمی ہیں۔“
ٹھیک ہے آگے بڑھ جائیں۔ ہم یہاں غور کرتے ہیں، اور کہتے ہیں، ”کیا ہمیں کسی دوسرے چرچ جانا چاہیے جو میرے ساتھ متفق نہیں ہے؟“ یقیناً، میں نہیں… میں ساحل سمندر پر واحد پتھر نہیں ہوں، آپ جانتے ہیں۔ ہر جگہ پر-پر خُدا پرست آدمی موجود ہوں؛ میں اُمید رکھتا ہوں کہ میں بھی اُن میں سے ایک ہوں۔
ٹیپس پر خُدا کی آواز ہی میرا پتھر ہے، میری چٹان ہے۔ یہی وہ آواز ہے جو میں سننا چاہتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ برینہم ٹیبرنیکل بھی سنے۔
اگر آپ ہمارے ساتھ جُڑنا چاہتے ہیں، تو میرے بھائیوں اور بہنوں، آپ خوش آمدید ہیں۔ اس اتوار 12:00 بجے، جیفرسن ویل ٹائم پر، جبکہ ہم خُدا کی آواز کو ہمارے کئی سوالات کا جواب دیتے ہوئے سنتے ہیں جو کہ آپکے دل میں ہیں۔ اور پس خود سے سنیں کہ آیا وہ تمام باتیں جو میں نے لیٹر میں تحریر کی ہیں کیا وہ کلام سے باہر ہیں اور کیا میں نے اُن باتوں کو غلط سمجھ لیا ہے جو خُدا نے اپنی دلہن سے کہیں ہیں۔
جو کچھ بھی اُس نے ٹیپس پر کہا ہے وہ خُداوند یوں فرماتا ہے۔ نہ کہ وہ جو میں کہہ رہا ہوں وہ کہتا ہے، یا ایمان رکھتا ہوں کہ وہ کہہ رہا ہے، پس خود خُدا ہی آپکو حقیقی مکاشفہ دے سکتا ہے۔
بردار جوزف برینہم